ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
مصلحت واقعیہ کے خلاف ہی ہو ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے فلاں مدرسہ کے متعلق ایک مشورہ فرمایا تھا کہ فلاں فلاں کتابیں درس سے خارج کردو مگر اس پرکسی نے بھی عمل نہیں کیا حالانکہ سب جان نثار ہی تھے مگر کچھ بھی حضرت کے مشورہ کی پرواہ نہیں کی گئی تھی یہ قدرہے بزرگوں کے مشوروں کی ۔ ان اہل مدارس کی عموما یہ حالت ہے کہ جودل میں ٹھان لی وہی کریں گے کسی کی نہیں سنی گے چنانچہ میری رائے امتحان کے بارہ میں یہ ہے کہ امتحان تقریری ہونا چاہئے تقریرمیں بہت جلد قلعی کھل جاتی ہے اور اگرکسی مصلحت سے تحریری بھی ہوتو اس کی لطیف صورت یہ ہے کہ طالب علم کو کتاب دے دی جائے اوراس کے شروح اور حواشی جومانگے سب دیدئیے جائیں اور کہ دیا جائے کہ فلاں مقام حل کرکے لاؤ مگر کسی سے مدد مت لو کیونکہ مقصود تو یہ دیکھنا ہے کہ کتا ب جو پڑھی ہے اس کو سمجھ بھی گئے یہ دیکھنا نہیں کہ یہ کتا ب کا حافظ بھی ہے یا نہیں اس میں طلباء کو بھی سہولت اور امتحان کا مقصود بھی حاصل اور متعارف طریق میں پوری مصیبت ہے چنانچہ میں جس زمانہ میں دیوبند پڑھتا تھا امتحان کی تیاری تمام تمام شب جاگتے گذر جاتی نیندخراب تندرستی خراب جب تک ساری کتب حفظ نہ ہو امتحان دے ہی نہیں سکتے ان تجارت کی بناء پر میں جس زمانہ میں کانپور تھا ۔ امتحان کے متعلق نہایت سہل قواعد وضوابط مقررکردیئے تھے اس سے اعلیٰ درجہ کی قابلیت حاصل ہوتی ہے اب اپنا اختیار نہیں مشورہ ہی کیا تیرچلائے گا چنانچہ مدارس میں جو آج کل امتحان کا طرز ہے کہ ساری کتاب محفوظ ہو تب امتحان دے سکتے ہیں اس کے متعلق میں نے اہل مدراس کو رائے دی مگر ایک نے بھی نہیں سنی ایک صاحب نے میرے یہ اصول سن کر مجھ سے کہا کہ انگریزی مدارس میں بھی یہ ہی دستور ہے میں نے کہا کہ انگریزوں نے ہمارے یہاں کی مفید باتیں بعد تجربوں کے ہم ہی سے تولی ہیں ایک طریقہ میں نے یہ جاری کیا تھا کہ ختم سال پر جہاں سے کتاب چھوڑی ہے آئندہ شروع سال میں وہاں ہی سے اسباق تجویز کئے جائیں ان کے تعارضات رفع کئے جائیں بس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے جمعرات کا سبق جہاں سے چھوڑا تھا ہفتہ کے روز وہاں ہی سے شروع کرادیا گیا ایک نفع اس میں یہ تھا کہ طلبہ منتشر نہ ہوتے تھے سبق کے سلسلہ