ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
کی وجہ سے پھرضرور آتے تھے اور اگر کوئی نیاطالب علم آگیا تو اس کی وجہ جس درجہ کی قابلیت ہوئی اس کو ان کتابوں میں شریک کردیا جیسا وسط سال میں آنے والوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیاجاتا تھا اوراس طرز میں بھگدڑ بھی نہ پڑتی تھی کہ کسی طرح کتاب ختم کراؤ چاہئےطالب علم کمبخت سمجھے یا نہ سمجھے اور جس کتاب کو ختم نہ کراسکے بس وہ رہ گئی اس کوچھوڑ دیتے ہیں یہ مفاسد ہیں اس رسم متعارف میں ۔ اب تو یہ ہے کہ طالب علم اپنی ذہانت اورمحنت سے کسی قابل ہوجائے یا نہ ہوجائے ورنہ مدارس کی طرف سے نہ کوئی درس کے اصول ہیں نہ قواعد بہت ہی خراب حالت ہے ۔ بھلا یہ لوگ جن سے ایک مدرسہ کا انتظام نہیں ہوسکتا سلطنت کا کیا انتظام کرسکتے ہیں یہ تو ناظمیں کی حالت ہے پھر آگے طلباء بھی آج کل ایسے ہی ہیں وہ بھی علوم کی طرف متوجہ نہیں ضابطہ پری کرتے ہیں بڑی معراج اس کوسمجھتے ہیں کہ ایک بڑا سا پگڑ بندھ جائے اور ایک بڑا سا پروانہ چھپا ہوا مل جائے پس ہوگئے مولوی ، مولوی ۔ پھر فرمایا کہ رسم پرستی کو وجہ سے یہ جمود ہے اوربے حد جمود ہے اور اگرترقی کی طرف چلے تو خلافت میں شریک ہوگئے کا نگریس میں شریک ہوگئے علوم میں ترقی نہں کرتے جہل میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اور اگر اس سے بھی ترقی کی تو پھران کی معراج ترقی جیل کی طرف ہوتی ہے وہاں پرپہنچ کر بھی بڑے بڑے القاب مل جاتے ہیں ۔ میں سچ عرض کرتا کہ جواہل اللہ کے پاس نہیں رہے ان کے قلب حقیقت کے ادراک سے بلکل مردہ ہیں اور اس مردہ ہونے کے خاص آثار ہیں ایک اثر اس وقت بیان کرتا ہون جن کا یہ واقعہ ہے میں ان کا نام نہیں بتاؤں گا ۔ مگر بہت بڑے عالم ہیں ان کا مقولہ عرض کرتا ہوں جس وقت حضرت محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ دیوبندی حج کو تشریف لے گئے تو میرے متعلق یہ مشہور کیا گیا بعض حاسدوں کی طرف سے کہ اس نے یعنی میں نے حدیث شریف کا دور شروع کرادیا ہے تو وہ عالم صاحب فرماتے ہیں کہ کیا اس کا انتظام ہی تھا کہ مولانا نعوذ باللہ یہاں سے شروع رخصت ہوں تو ہماری دکان چمکے یہ علماء ہیں ۔ اگر مولانا ہی کے سامنے شروع کرادیتا تو کون سا گناہ تھا ۔ بلکہ حضرت مولانا ہی سب سے زیادہ خوش ہوتے تو حضرت کے رہتے ہوئے کون مانع تھا ۔ پس اہسے لوگوں میں اس کی