ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
اپنا بھی ایک بات کے پیچھے پڑجانا کون عقل کی بات ہے ایک بات شروع ہوئی جواب دیدیا گیا بات ختم ہوئی آپ ہیں کہ بار بار اسی کا اعادہ کررہے ہیں آخر اس سے آپ کا مقصود کیا ہے کیا یہ ہی ایک کام رہ گیا ہے کہ بیٹھے ہوئے کھرل کئے جائیں آپ کو دوسرے پربار ہونے کا مطلق خیال نہیں اور یہ بھی آپ کی خاطر سے بتلادیا ایک مرتبہ دو مرتبہ نہیں تین مرتبہ بتلادیا مشورہ دیدیا گیا دوسرے کو تو یہ بھی نہ بتلاتا کیو نکہ آج کل کسی کو مشورہ دینا میرے مذاق کے خلاف ہے آپ ساری دنیا کے اقوال پیش کریں اور میں ان کے متعلق تحقیقات کروں یہ کس قدر تکلیف مالایطاق ہے اگر مجھ کو اس پڑھنے پڑھانے سے دلچسپی ہوتی تو اب بھی خدا کا فضل ہے کہ اگر کتا ب لے کر بیٹھو تو ٹوٹا پھوٹا پڑھا سکتا ہوں مگر پھر بھی چھوڑ دینا اس کی کافی دلیل ہے کہ دلچسپی نہیں رہی اس لئے ایسی کاوش سے گرانی ہوتی ہے اور جس چیز دوسرے کو گرانی ہو اس سے احتیاط رکھنا چاہئے دوسرے یہ تو میری قدرت میں نہیں کہ ساری دنیا کے اقوال کی تو جیہ کیا کروں اور ہرایک کے جدا جدا جوابات دیا کروں یہ تو ایک سلسلہ ہوجاوے گا جو کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتا تیسرے اس حالت میں مشورہ لینے کا حاصل یہ ہوگا کہ رائے میری اور قبضہ ان کا یعنی ناظمان مدرسہ کا اور لا متناہی عمل فلاں صاحب کا یعنی طالب علم صاحب کا یہ جوڑ کیسے لگے گا پس اسلم یہی ہے چھوڑیئے ان جھگڑوں کو ہورہے گا جو ہونا ہوگا آپ کس غم میں پڑے اساتذہ موجود ہیں اور صاحب زادے خود بھی رائے رکھتے ہیں جیسا مناسب ہوگا آپ کرلیں گے ، فرمایا کہ فلاں مدرسہ کے متعلق بہت عرصہ سے درس و تدریس کے بارے میں مختلف مشورہ دے رہا ہوں مگر کوئی نہیں سنتا ان کے استحسان کے متعلق تو یہ جواب کہ بالکل ٹھیک۔ مگر عمل ندارد اب کیا جی چاہئے مشورہ دینے کو جب تجربہ سے یہ معلوم ہوگیا کہ اہل مدارس وہی کرتے ہیں جوان کے جی میں آتا ہے د ماغ سوزی کرو ایک مفید بات بتلاؤ اور عمل اس پرنہ ہو یہ بھی میرا تبرع اور احسان تھا کہ میں نے آپ کورائے بھی دیدی اور وہ بھی دیدی اور وہ بھی کئی بارورنہ جس بات پر عمل کرنے کے اور کچھ نہیں اہل علم کا طبقہ اکثر لوگوں کو رسم پرست بتلاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ علماء سب سے زیادہ رسم پرست ہیں کہ پرانے معمولات کو نہیں چھوڑتے گو ضرورت اور