ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
ہے کہ اپنے کو کسی کے سپرد کردے اور اپنے تمام خیالات اور راؤں کو اس کی تجویز کے سامنے فنا کردے مولانا رومی اسی کو فرماتے ہیں قال رابگذار مردحال شو ٭ پیش مرد ے کا ملے پامال شو (قال کو چھوڑ کرحال پیدا کرو ۔ اور کسی کامل کے آگے اپنے کو فنا کردو ۔ 12) اور اگرایسا نہیں کرسکتا تو کامیابی مشکل ہے جب مربی کی ہر تبنیہ اور اس کی روک ٹوک پرتیرے دل میں کدوت پیدا ہوتی ہے تو آیا ہی کس بوتے پرتھا اور اس راہ میں قدم ہی کیوں رکھا تھا مولانا فرماتے ہیں تو بیک زخمے گریزانی زعشق ٭ تو بجز نامے چہ میدانی زعشق چوں نداری طاقت سوزن زون ٭ پس تو ازشیرریاں کم دم بزن دربہر زخمے تو پرکنیہ شوی ٭ پس کجا بے صیقل آئینہ شوی ( تو ایک کچوکے ہی کی وجہ سے عشق سے بھا گنے لگے ۔ تومعلوم ہوا کہ تم نام ہی کے عاشق تھے جب سوئی چبھنے کی برداشت نہیں ہے ۔ توشیر کی تصوریر بدن پرگدوانے کا خیال ہی چھوڑدو ۔ اگرہرکچوکے پرتمام کو ناگواری ہوگی تو بے صیقل کے آئنیہ کیسے بنو گے ۔ 12) غیر اختیاری چیزیں مقصود فی الدین نہیں (ملفوظ 305) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جن چیزوں کی تکمیل کا حکم ہے وہ مامور ہیں اوراختیا ری ہیں اور جو اختیاری نہیں وہ مامور بہ نہیں نہ وہ مقصود فی الدین ہیں مگر جن چیزوں کی تکمیل کا امر ہے دعوی ان کی تکمیل کا بھی کوئی نہیں کرسکتا اور نہ ناز کرسکتا ہے کہ میرے نجات کا مدارمیرے اعمال پر ہے نجات کا مدار فضل خداوندی پرہے واقعی اپنے اعمال کی بدولت کون جنت کو پاسکتا ہے خود حضوﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لن یدخل الجنۃ احد بعملہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا والا انت یا رسول اللہ کہ یا رسول اللہ آپ بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہ ہوں گے حضورﷺ نے اپنے سرمبارک پرہاتھ فرمایا ولا انا الا ان یتغد نی اللہ برحمتہ یعنی نہ میں مگر یہ کہ اللہ تعالٰی اپنی رحمت میں چھپالے اب کس کا منہ ہے اور کس