ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
انسان ہے کہا تک بنے گا ہمیشہ بنتے رہنا بڑا مشکل کام ہے اورجس طرح مصلح کو ضرورت ہے طالبین کو تلبیس سے بچاوے اسی طرح طالبین کو بھی سخت ضرورت ہے کہ تعیین مصلح میں نہایت احتیاط سے کام لیں اور تلبیس سے بچیں اور یہ سب احتیاطیں حالت موجودہ کے متعلق ہوسکتی ہیں باقی انجام کے متعلق جوکہ اس وقت محض مخفی ہے کوئی انتظام نہیں ہوسکتا بجزاس کے کہ جس وقت اس کا ظہور ہو اس سے قطع تعلق کروے کسی کو دلائل صحیحہ سے صاحب کمال سمجھا گیا مگر باوجود اس کے پھر اس کو رجعت ہوئی تواس وقت یہی حکم کیا جائے گا کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ پہلی ظاہری حالت واقع میں ولایت ہی نہ تھی جیسے طب کا مسئلہ ہے کہ دق کا مریض اگراچھا ہوگیا تو کہاں جاتا ہے کہ وہ دق ہی نہ تھی طبیب کی تشخیص میں غلطی ہوئی ایسے ہی ایسی حالت میں کسی کو صاحب کمال سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ پہلے ہی سے صاحب کمال نہ تھا بعض صورتیں اشتباہ کی ایسی بھی ہوتی ہے کہ غیر حقائق پرحقائق کا دھوکہ ہوجاتا ہے جیسے صبح کا ذب پرصبح صادق کا دھوکہ ہوجاتا ہے اسی کومولانا فرماتے ہیں
اے شدہ تو صبح کاذب رار ہیں صبح صادق راز کاذب ہم ببیں
( توجوصبح کاذب کا متبع ہورہاہے ، صبح صادق اور صبح کاذب میں امتیاز ۔ 12)
دیکھئے ابلیس کو اپنے متعلق ہی دھوکہ ہو اور نہ واقع میں اس کو کبھی نسبت اور قریب میسر نہیں ہوا اور آسمان پرچلا جانا یہ کیسی دلیل سے علامت مقبولیت کی نہیں البتہ مکان کو مطہرکہیں گے اس سے آگے کوئی بات اس کے کامل ہونے کی دلیل نہیں باقی یہ اعمال صالحہ ابلیس کے تھے وہ محض صورۃ تھے حقیقتہ نہ تھے مگر فتوے کے درجہ میں حقیقت معتبرنہیں اس لئے کبھی کسی آدمی کو بھروسہ نہیں کرنا چاہئے کہ میری حالت اخیرتک مامون ہی رہے گی میرے ابتدائی عربی کتابوں کے استاد نے جومکہ کے ایک ثقہ عالم تھے ایک حکایت بیان فرمائی کہ اتفاق سے مکہ سیلاب آیا جس سے ایک عالم کی قبر کھل گئی مگر دیکھا کہ بجائے اس میت کے ایک عورت نہایت حسین اس قبر میں ہے تعجب ہوا کہ وہ شخص جواس قبر میں دفن ہوا تھا اس کے بجائے یہ عورت قبرمیں کیسے ہے ایک آفاقی حاجی شخص نے بیان کیا کہ میں اس کو پہچانتا ہوں یہ ایک لندن کے انگریز کی بیٹی ہے جومجھ سے تعلیم حاصل کرتی تھی اورخفیہ مسلمان ہوکرمرگئی لوگوں نے یہ انتطام کیا کہ اس شخص کو مع دومکی لوگوں کے لندن بھیجا کہ وہاں اس کی قبر کھول کر دیکھو چنانچہ اس قبر میں اس مکی عالم کی میت کی نعش دیکھی گئی جس کوان دومکی ہمراہیوں نے پہچانا یہ