ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
وہاں یہ چیز نصیب ہوجائے یہ سب سن کر میں نے اس شخص سے کہا کہ تم دھوکے میں ہو اور تمہارے اسلام لانے کی یہ بناء ہے تو ہم صاف کہے دیتے ہیں کہ اسلام میں بھی دنیا میں خدا کا دیدار نہیں ہو سکتا ہاں آخرت میں وعدہ ہے پھرمیں کہا کہ جب تم اس میں ناکام رہوگے اورتمہارے اسلام کی یہ ہی بناء ہے تو شبہ ہوتا ہے کہ تم اسلام کو بھی چھوڑدوگے کہنے لگا کہ اسلام میں توحید ایسی کامل ہے کہ کہیں اورکسی مذہب میں نہیں اس لئے اسلام کو نہیں چھوڑسکتا میں نے کہا کہ اسلام میں کیا توحید کامل ہے مجھ کو یہ انتظارتھا کہ دیکھو کیا دلیل بیان کرتا ہے جس پراطمینان ہے کہنے لگا کہ اگرکوئی مسلمان ہوجاتا ہے اس کوسب مسلمان اپنے برابر سمجھنے لگتے ہیں یہ دلیل تھی اس کے پاس اسلام میں توحید کامل ہونے کی جوظاہرا کوئی بڑی برہانی بات نہیں مگر حق تعالیٰ کا جس پر فضل ہوتا ہے اور اس کو رحمت سے نوازتے ہیں وہاں کسی مانع کا دخل نہیں ہوتا ظاہرا تو جب وہ اسلام لاکر بھی اپنے مقصد میں ناکام ہوا توجواسلام کا داعی تھا وہ رخصت ہوجانا چاہئے تھا مگر یہ برکت اس کے خلوص نیت کی تھی چونکہ وہ ان کی ملاقات کا متلاشی تھا اس پریہ فضل ہوا کہ اس کو اسلام لانے کی توفیق نصیب فرمادی ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذو فضل العظیم اس قصہ میں جو اس نو مسلم سے بلا تلبیس حق بات صاف کہہ دی تھی اس پر ایک دوسرا قصہ بیان کیا کہ ایک ہندو جلال آباد میں تھا معزز رئیس تھا اس نے اتفاق سے ایک وعظ میں شرکت کی تھی اس کے سننے کے بعد اس نے چاہا تھا کہ میں اس تصوف کی تعلیم دوں کئی باررفعے پرچے چلے اورمیں نے اس کو خاص خاص عنوانات سےحق کی دعوت دی مگر سمجھا نہیں ایک رقعہ میں میں نے اس کو صاف لکھ دیا اگر ہم سے تصوف لینا ہے تو ایک شرط کی ضرورت ہے ہرطریق میں کچھ شرائط ہوتے ہیں جو تصوف ہم کو پہنچا ہے اس میں اسلام شرط ہے بس مایوس ہوکر بیٹھ گیا اسی عدم تلبیس کے سلسلہ میں فرمایا کہ جیسے میرے یہاں اپنے نقائض کے اخفا کا اہتمام نہیں ایسے ہی اپنے محاسن کے خفا کا بھی اہتمام نہیں جو بھی حالت ہے کھلی ہوئی ہے اب خواہ کوئی نقائض سے غیر معتقد ہوجائے خواہ محاسن پر معتقد مجموعہ پر نظر کرکے اعتقاد میں بھی کسی کو غلونہ ہوگا وہ وسط رہے گا پالیسی بمعنی فریب اور پالیسی بمعنی خوشامد دونوں سے بحمد اللہ مجھ کو ہمیشہ سے نفرت ہے میں توکہا کرتا ہوں کہ انگریزی کی پالیسی اورفارسی کی پالیسی دونوں قابل نفرت ہیں اور بناوٹ پرمعتقد ہونے والے کا اعتبار ہی کیا آخر