ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
سب واپس آئے اور بیان کیا اورحیرت بڑھی لوگوں نے اس کی مکھی شخص کے مکان پرپہنچ کر اس کی بیوی سے پوچھا کہ یہ شخص ایسا کیا یہ برا عمل کرتا تھا جس کی یہ سزادی گئی بیوی نے کہا کہ یہ جب مجھ سے مقاربت کرتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ جنابت کے مسئلہ میں عیسائیت کا مذہب بڑے آرام کا ہے کہ جنابت کا غسل نہیں ایسی حالت میں اپنی حالت کے پرکیا ناز کرے کسی کو کیا حقیر سمجھتے اس لئے کہ کیا خبرہے کسی کوخدا کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے بعض فساق فجار میں بھی خود فسق وفجور کے زمانہ میں ایسی بات ہوتی ہے کہ وہ بیڑا پار کردیتی ہے لکھنؤمیں ایک خان صاحب تھے رند مشرب بڑے آزاد دنیا بھر کے عیوب ان میں تھے عمر ڈھل چلی تھی اہل محلہ سمجھاتے کہ میاں ضعیفی کا زمانہ ہے اب توتوبہ کرلو نماز شروع کردووہ کہتے کہ اس سے کیا ملے گا لوگ کہتے ہیں کہ جنت ملے گی وہ کہتے کہ میاں جنت کے واسطے اس قدر محنت اور مشقت کون کرے جنت چلی جائے گی اور جنت میں جا کھڑے ہوں گے جس وقت مولانا امیرعلی صاحب نے ہنومان گڈی پربت پرستوں کے مقابلہ میں جہاد شروع کیا خان صاحب کو معلوم ہوا مولانا کے پاس پہنچے اورعرض کیا کہ مولانا کیا ہم جیسے گنہگاروں کو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں گے مولانا نے فرمایا کہ کون امرمانعی ہے خان صاحب ہاتھ میں تلوار لے کر میدان میں پہنچ گئے واقعی ایک ہاتھ سے خان صاحب شہید ہوگئے اور جنت میں داخل ہوگئے تویہ بات دین کی حمیت خاں صاحب میں عین جہاد کے وقت تھوڑا ہی پیدائش ہوئی تھی یہ پہلے ہی سے قلب میں تھی جس کی کسی کو خبر بھی نہ تھی اور بات یہ ہے علم علٰی شانہ کے ساتھ تعلق اورمحبت یہ بھی ایک عمل مخفی ہے جس کی بدولت خان صاحب کو یہ دولت نصیب ہوئی ، ایک شخص مار ہرہ میں تھا نہایت ہی اوباش لا اوبالی لوگ کہتے کہ میاں خدا کوبھی مبہ دکھلانا ہے ان حرکات سے توبہ کرلو جواب میں کہتا کہ میاں ہم جانیں ہمارے اللہ میاں تم کون دخل دینے والے ایک دن دفعتہ بیٹھے بیٹھے بیساختہ اس کے منہ سے نکلا کہ میاں میرا کیا حال ہوگا پھر اور کوئی کلمہ دنیا کا زبان سے نہیں نکلا اور رونا شروع کیا اسی حالت میں دو تین روز کے بعد اسی پرختم ہوگیا اورجان دیدی اب یہ شخص قتیل محبت وہیت ہونے کی وجہ سے شہداء میں سے ہے توکیا کسی کو حقیر اورذلیل سمجھا جا سکتا ہے اسی فرماتے ہیں گناہ آئینہ عفو و رحمت ست اے شیخ مبیں بچشم حقارت گناہ گاراں را ،