ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
ایک مثال عیب چین کی ایک شخص نے عجیب بیان کی کہ باغ میں کوئی جاتا ہے تفریح سیرکے لئے ، کوئی پھول سونگھنے کے لئے اور کوئی پھل کھانے کے لئے مگر سور جب جائے گا نجاست ہی کو تلاش کرے گا کہ پاخانہ بھی کہیں ہے یا نہیں ایسے ہی اس عیب چیں کی مثال ہے کہ کسی میں کتنی ہی خوبیاں کیوں نہ ہوں مگر اس کی نظر عیوب ہی کی متلاشی رہتی ہے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو ضروری نہیں ہے کہ کسی خاص طریق تربیت کو مثلا میرے ہی طرز کو سب اچھا ہی سمجھیں اس کی ایسی مثال ہے جیسے کسی کا لڑکا حسین ہے تو کیا ضرور ہے کہ ساری دنیا اس کو حسین ہی سمجھے بلکہ یہ اچھا ہے کہ دوسرے اس کو بدشکل اور غیر حسین سمجھیں تاکہ لڑکا بچا تو رہے گا اور پاک صاف رہے گا ۔ اسی طرح یہ کیا طرح یہ کیا ضرور ہے کہ جو چیز ایک کی نظر میں اچھی نہیں معلوم ہوتی اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس طریق میں کام کرنے سے حقیقت کا پتہ چلتا ہے کام ہی کرنے سے راستہ سمجھ میں آسکتا ہے اور لوگ کام کرتے نہیں اسی لئے اس سے اجنبیت ہے باقی محض بیان کرنے سے سمجھ میں نہیں آسکتا ۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ کہیں اور مضرت نہ ہو اور حقیقت سے دور جا پڑے جیسے ٹیڑھی کھیر کی حکایت ہے ۔ ایک حافظ جی مادرزادنا بینا تھے ایک لڑکے نے ان کی دعوت کی حافظ جی نے سوال کیا کہ کیا کھلاؤ گے کہا کہ کھیر اب غلطی میں ابتلاء شروع ہوتا ہے ۔ حافظ جی نے پوچھا کہ بگلا کیسے ہوتا ہے اب لڑکا کس طرح سمجائے ہاتھ موڑ کر سامنے بیٹھ کرکہا ایسا ہوتا ہے ۔ حافظ جی نے جوٹٹول کردیکھا تو کہاں کہ بھائی یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے حلق سے نیچے کیسے اترے گی مشبہ نہ تو تھا بگلا اورلڑکا تھا پگلا کا طباق بھر کرلا کرسامنے رکھ دیتا کہ لوکھا کردیکھ لو کھیر کیسی ہوتی ہے تواسی طرح بیان کرنے سے اس طریق کی حقیقت معلوم ہو نہیں سکتی بلکہ اور بعد ہوجانے کا اندیشہ ہے خلاصہ یہ ہے کہ قیل وقال وبحث وجدال اور فضول جواب وسوال چھوڑو اور کام میں لگو ولنعم ماقیل کارکن کاربگذر از گفتا ر کاندریں راہ کا ر باید کار انتھت المقالۃ الملقبۃ بذم القیل والقال ۔