ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
ارشاد فرماتے ہیں لن یدخل الجنۃ احد بعملہ کہ جنت میں اپنے عمل کی وجہ سے کوئی داخل نہ ہو گا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ولا انت یا رسول اللہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا و لا انا الا ان یتغمدنی اللہ برحمتہ ۔ اگر آپ اپنے عمل کو کامل سمجھتے تو جنت میں جانے کو عمل کا ثمرہ کیوں نہ فرماتے حضرت وہاں تو فضل ہی پر مدار ہے شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ۔ بندہ ہماں بہ کہ زتقصیر خویش عذر بدرگاہ خدا آورد ورنہ سزا وار خداوندیش کس نتو اند کہ بجا آورد جب انبیاء علیہم السلام کمال کا دعوی نہیں کرتے تو اور کس کا منہ ہے کہ وہ کامل ہونے کا یا بننے کا دعوی کرے بس عبدیت یہی ہے کہ کام میں لگے رہو اور آگے کو چلتے رہو اگر کوئی شخص چلنے کے وقت ہر قدم پر یہ دیکھے کہ رفتار سریع ہے یا بطی ( سست ) تو منزل ختم ہو چکی اور منزل مقصود پر پہنچ لیا ارے تیز ہے یا سست ۔ چلا چل منزل سے قریب ہی بڑھے گا اور ایک روز پہنچ رہے گا ۔ مجنون کی حکایت ہے ایک مرتبہ اپنی لیلی کی ملاقات کے لئے اونٹنی پر سوار ہو کر چلا جس کے ساتھ بچہ بھی تھا جو اونٹنی کے پیچھے آ رہا تھا جب تک مجنوں کے ہوش حواس درست رہتے اور مہار ہاتھ میں رہتی اونٹنی چلتی رہتی اور جب اس پر محبت کا غلبہ ہوتا تو بے ہوش ہو جاتا ۔ مہار ہاتھ سے چھوٹی جاتی اونٹنی محسوس کر لیتی کہ اب سوار غافل ہے وہ پیچھے لوٹ کر بچے کے پاس جا پہنچتی پھر مجنوں کو جب ہوش آتا دوبارہ پھر مہار سنبھال کر بیٹھتا اور لے کر چلتا پھر اسی مدہوشی کی کیفیت کا غلبہ ہوتا اونٹنی پھر اسی طرح پیچھے لوٹتی ہوش آیا تو دیکھا کہ ابھی وہیں ہوں جہاں سے چلا تھا تب مجنوں نے یہ شعر پڑھا : ھوی ناقتی خلفی و قدامی الھوی فانی و ایاھا لمختلفان یعنی میرا محبوب تو آگے ہے اور اس اونٹنی کا محبوب پیچھے ۔ میرا اس کا نباہ نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہی اوپر سے کود پڑا چوٹ بھی لگی اسی لئے کے بے تکے پن سے کودا چلنے کی بھی قوت نہ رہی تو زمین پر ہی لیٹے لیٹے لڑھکنا شروع کر دیا تو مجنون نے تو لیلی کے عشق میں یہاں تک گوارا کیا اور تم