ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
اورسخت اور ظالم کہلائے گا جب تک مریض یہ کہتا ہے کہ میں ملاقات کو آیا ہوں اس وقت تک تو خیر ہے اور جہاں اس نے کہا کہ علاج کی غرض سے آیا ہوں سوالات شروع ہوگئے بھوک کا کیا حال ہے پیاس کیسی ہے نیند آتی ہے یا نہیں یہی قاعدہ طریق اصلاح میں ہے کہ جب تک ملاقات کا نام ہے کچھ مطالبہ نہیں اور جہاں اصلاح کا نام لیا سوالات شروع ہوگئے طالب کے بعض حالات تو وہ ہیں کہ جوسوالات پرموقوف ہیں اور بعض باتیں مصلح خود مثل طبیب کے قرائن سے معلوم لرلیتا ہے مثلا طالب میں طلب صادق ہے یا نہیں فہم اور عقل اس میں کیسے ہیں اگر طلب صادق ہے اور فہم ہے تومناسبت ہوکر کام چل جاتا ہے اورکوئی بے لطفی بھی جانبین کو پیش نہیں آتی اور اگرطالب ان اوصاف سے کورا ہے تو عدم مناسبت کی بناء پرنفع نہیں ہوتا بدفہمی کی وجہ سے گڑبڑ کرتا ہ اس سے مصلح کو تکدر ہوتا ہے اس کے تکدر سے مریض یعنی طالب کو تکدر ہوتا ہے اس لئے کام نہیں چلتا ۔ یہ طریق ہیں علاج کے مربی جس کیلئے جو اس کے حال کے مناسب سمجھتا ہے تجویز کرتا ہے اکثر جوطالب سے گڑبڑ ہوتی ہے وہ اضطرار سے یا بدفہمی سے یا قصد سے جہل سے نہیں ہوتی بلکہ اکثر بے فکری اور غفلت سے ہوتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ مصلح کو اس پرسخت ناگواری ہوتی ہے کہ اگر یہ چاہتا اور اہتمام کرتا تو اس کا انسداد اور ازالہ اس کے اختیار میں تھا اب اس بے فکری اور غفلت کے دور کرنے کیلئے طالب کے مزاج کے موافق مربی جومناسب سمجھتا ہے تجویز کرتا اور برتاؤ کرتا ہے۔ اوریہ وہ چیزہے کہ جس میں کسی میں کسی کو بھی مداخلت کرنا جائز نہیں جیسے طبیب جسمانی کی تجویزمیں کسی کو حق مداخلت کا نہیں ہاں ایک حق ہے کہ اگروہ مصلح یا اس کی تجویز پسند نہ ہو یا اس کو برداشت نہ کرسکے تو اس کا علاج چھوڑ دے یا اس سے تعلق قطع کردے ورنہ تعلق رکھتے ہوئے اس راہ میں قدم رکھنے کے لئے پہلی شرط یہ ہے جس کو فرماتے ہیں دورہ منزل لیلٰی کہ خطرہاست بجاں ٭ شرط اول قدم آنست کہ مجنون باشی ( لیلٰی کے ملنے کے راہ میں جان کو بہت سے خطرات توہیں ہی مگر اول شرط یہ ہے کہ مجنون بنو ۔ 12) اس راہ میں بدون اپنے کو مٹائے اور فنا کئے کامیابی مشکل ہے مٹ جانے سے مراد یہ