ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
غرض سے آیا ہوں فرمایا کہ ایک دن میں اصلاح ۔ عرض کیا کہ تین دن ٹھہروں گا فرمایا کہ تین دن ہی سہی اتنی مدت میں تو جمسانی مرض مزمن بھی نہیں جاسکتا اس وقت تو آنے کی غرض ملاقات ہی رکھئے یہ بھی ایک رسم ہے کہ اصلاح کے الفاظ ضرور کہے جائیں چاہے وقت یو یا نہ ہو سو یہ وقت محض ملاقات کیلئے اس میں آپ کے لئے بھی سہولت ہوگی اور میرے لئے بھی آپ بھی عافیت سے رہیں گے اور مجھ کو بھی عافیت رہے گی یہ فرما کردریافت فرمایا کہ میرے جواب کے بعد بات صاف ہوجانا چاہے آپ اپنی رائے قائم رہیں یا نہیں مجھکو معلوم ہوجانا چاہیے عرض کیا کہ ملاقات ہی کیلئے اس وقت کوطے کرلیا ہے مگر حضرت والا اللہ اللہ کرنے کیلئے کوئی طریقہ تجویز فرمادیں فرمایا کہ یہ تواس وقت آپ نے ایسی بات کہی کہ پنچوں کا کہنا سرآنکھوں پرمگر پرنالہ اسی طرف کواترے گا دوسرے طالبانہ دوخواست نہیں کی مدعیانہ تجویز بھی خود ہی کرلیا کہ فلاں چیز کی تعلیم کردو اس کی مثال ہے کہ جیسے مریض طبیب سے کہے کہ میرے لئے خمیرہ تجویز کردیجئے طبیب کو تو حق ہے کہ وہ جوچاہے تجویز کرے مگر مریض کو حق نہیں تجویز کا اور اس وقت تو آپ کو کوئی دوخواست بھی نہ کرنا چاہئے تھی اس لئے کہ یہ وقت ملاقات کیلئے طے ہو چکا تھا میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر دق کا مریض طبیب سے یہ کہے کہ میرے لئے دودھ گھی تجویز کردیجئے تو کیا اس کی یہ دوخواست بااصول ہے یا بے اصول اور ایسی درخواست تو خط سے بھی پوری ہوسکتی تھی فضول آپ نے سفر کی صعوبت گوارا کی اور کرایہ صرف کیا اگر مختصر قیام ہوتو ملاقات ہی پراکتفا کرنا چاہئے اور اگر مطول قیام ہے تو ایسی دوخواست کا مضائقہ نہیں اب اس میرے جواب سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ اس درخواست سے آگے کوئی اورچیز بھی ہے ورنہ جہل میں ابتلا رہتا اور ظاہر میں تو یہ دوخواست خیرمعلوم ہوتی تھی مگر اس کی تہ میں یہ زہر اور ضرر ہے کہ اگرمیں اس درخواست کو پورا کردیتا تو خود رائی کا مرض زیادہ قوت پکڑ جاتا اسی ہی لیے میں نے کہا تھا کہ اتنی مدت میں تو مرض جسمانی مزمن بھی نہیں جاسکتا ۔ شہ جائے کہ مرض باطنی آخراس باطنی مرض کا ظہور ہورکر رہا لوگ مجھ کو وہمی کہتے ہیں لیکن اگر اس طرح نہ کروں تو اصلاح کس طرح ہو اگر کوئی طبیب مریض کے حالات پر مطلع ہونے کے لئے کھود کرے تو آیا وہ شفیق کہلائے گا ہمدرد اور خیر خواہ کہلائے گا یا وہمی