ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
تھی کہ میرے اس جوا ب کو نقل کرکے اس سے تعرض کرتے کچھ خدا کا خوف بھی توجا ہئے کہ میرے نا تمام عبارت نقل کرکے اعتراض کردیا یہ نہ سوچا کہ اگر کسی نے وہ مقام پورا دیکھا تووہ کیا کہے گا میں ان کوتوکوئی جواب نہ دونگا مگران شاءاللہ تعالی ٰ اپنے یہاں اس مقام کونقل کراکر شائع کردوں گا ایسے بے احتیاط لوگوں سے خطاب کرناہی حاصل ہے واذا خاطبھم الجاھلون قالواسلما پرعمل کا یہی موقع ہے آج کل کے اکثر غیرمقلدوں میں تقوی ٰ طہارت نہیں ہوتا الاماشاءاللہ پھر ان بزرگ صاحب اخبار کومیرے غلطی ہی نکالنا تھی تومجھ کو خاص طور پراطلاع کردینا کافی تھا اخبارہی میں چھاپنے کی کون ضرورت تھی اور وہ بھی نام کے ساتھ اور اگرمیرے مضمون کے متعلق یہ خیال تھا کہ اس کی اشاعت ہوچکی اس سے لوگ گمراہ ہونگے اس لئے اشاعت ضروری ہے تو صرف یہ لکھ دینا کافی تھا کہ ایک ایسی تفسیر ہماری نظر سے گذری جوسلف کے خلاف ہے ہم بغرض اطلاع اس کی اشاعت کرتے ہیں مگر یہ توجب کرتے جبکہ اس اشاعت سے دین مقصود ہوتا مقصود توفخر ہے کہ ہم نے فلاں شخص کی غلطی پکڑی پھروہ بھی غلط تحریف کرکے مضمون کی پوری عبارت بھی تونقل نہیں کی ایسی حرکت تو شرعا بھی جائزنہیں میں نے ان کو یہ بھی لکھا تھا کہ سوال کے طریقہ سے سوال کروبلا ضرورت اعتراض کا لہجہ نہیں ہونا چاہئے توآپ نے اس کا بھی سنت ہونا ثابت کیا ہے کہ حدیث میں آیا ہے حضرت عائشہ بے حضور سے حساب یسیر کے متعلق ایسے ہی لہجہ میں سوال کیا تھا یہ ہیں عامل بالحدیث اوران کادعویٰ ہے حدیث دانی کا اتنا بھی معلوم نہیں کہ اگر لہجہ کا تحقیق علی سبیل التنزیل تسلیم بھی کرلیا جاوے تب بھی یہ فرق ہے وہاں بے تکلفی تھی وہاں لہجہ پرنظر نہ تھی دوسراشخص تواس قیاس کا یہ جواب دیتا کہ تم بھی میری بیوی بن جاؤ پھرلہجہ کا میں بھی خیال نہ کروں گا اگرمیری پوری عبارت نقل کرکے اعتراض کیاجاتا تومجھ کو اس قدر رنج نہ ہوتا اور الحمداللہ مجھ کو اپنے زلات لغزشوں پرکبھی اصرار نہیں ہوتا سمجھ میں آتے ہی رجوع کرلیتا ہوں پھراس فضول بلکہ موذی طرزکی کیا ضرورت تھی میر اتوقدیم سے معمول ہے کہ جب کوئی میری غلطی پرمتنبہ کرتا ہے تو سب سے اول مجھ کویہی احتمال ہوتاہے کہ ضرورمجھ سے غلطی ہوئی ہوگی اس کے بعد پھر اس میں غور کرتا ہوں یہ خدا کا ایک بہت بڑا فضل ہے کہ میں اول ہی سے اپنی غلطی قبول کرنے کو تیار ہوتا ہوں اوردوسرے اکثر لوگ اول اس کے جواب کی تلاش میں لگ جاتے ہیں سب بزرگوں سے زیادہ یہ بات حضرت مولانا یعقوب صاحب ؒ میں تھی کہ اپنی غلطی کو فورا تسلیم فرما کر رجو ع فرمالیتے تھے اور الحمداللہ