ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
اصلاح کاکام بندکردوں مگر اصلاح کاکام کرتے ہوئے خاموشی اختیار کروں اور بدتمیزیوں پرمطلع نہ کروں یہ مجھ سےنہیں ہوسکتاچاہے کسی کو اچھا معلوم ہو ا یا برا معلوم ہو میں کسی وجہ سے اپنی طرز کو بدل نہیں سکتا اور اس موقع پر میں یہ پڑھاکرتا ہوں ہاں وہ نہیں وفاپرست میں تویہ جاؤ وہ بیوفا سہی جسکو ہوجان ودل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں اور یہ پڑھا کرتاہوں دوست کرتے ہیں شکایت غیرکرتے ہیں گلہ کیا قیامت ہے مجھے کو سب برا کہتے ہیں مجھ کو بحمداللہ اس کی پرواہ نہیں میں ہی سب کی طرف سے یہ فرض کفایہ ادا کررہاہوں اور مگردوسروں کے اخلاق تو خراب ہوئے آخرکہاں تک صبر سے کام لیا جائے کوئی حدبھی ہےبدوں اس طریق اورطرز کے اس فعل کی قباحت ان کے ذہن میں نہیں آسکتی تھی جوبات دل میں بٹھلانا چاہتا ہوں بدوں اس طرز کے بیٹھ نہیں سکتی اور اگر یہ طرز پسند نہیں تو کیا یہ چاہتے ہیں کہ ہاتھ جوڑکر سامنے حاضرہوکر عرض کروں کہ حضور آپ سے یہ غلطلی ہوئی جوبات جس طرح ہےاور جس طریق سے کہنے کی ہوگی اسی طرح کہی جائے گی اس پر بھی اگرکوئی نہ سمجھے تومیں کسی کی بدفہمی کا کیا علاج کر سکتاہوں اور یہ تو آج نئے نہیں آئے نہ معلوم یہ نئی حرکت کہاں سے سیکھ کے آئے اوراس وقت ممکن ہے کہ ان کے دل میں یہ شکایت ہوکہ میرے ساتھ ایسابرتاؤ کیوں کیا بات یہ ہے کہ جتنی تہذیب کی توقع ان کو مجھ سے تھی اس سے زائد مجھ کو ان سے تھی مگر انتداء انہوں نے کی اسی پرمیں کہہ رہاہوں توذمہ دار یہ ہیں میں نہیں ہوں اور کیا سلیقگی اور بے اصولی سے مجھ کو فہم کا اندازہ نہیں ہوسکتا ذراسی بات سے آدمی کے فہم کا پتہ چل جاتا ہے اوریہ تو بہت کھلی ہوئی بات ہے جس کا ان سے صدور ہوا اب باہر جاکر مجھکو بدنام کریں گے کہ بدخلق ہے سخت ہے میں بحمداللہ سخت نہیں ہوں اس سختی کو یہاں کے رہنے والوں سے دریافت کرو وہ بتلائیں گے مزاحافرمایا کہ میرے مزاج میں درشتی نہیں ہے درستی ہے میں سخت نہں ہو ں مضبوط ہوں جیسے ریشم کا رسہ کہ نرم تواس قدر کہ چاہے جس طرح موڑ توڑ لو اور جس طرح گرہ لگالو مگرمضبوط اس قدر کہ اگر اس میں ہاتھی کو بھی باندھ دو تو وہ بھی نہیں توڑسکتا لوگ سختی اور مضبوطی ہی میں فرق نہیں سمجھتے چکنی چپڑی باتیں بنانے کو یا آہستہ بولنے ہی کو خوش خلقی نہیں کہتے ۔