ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
اب بتلایئے کہ یہ بھی کوئی مجاہدہ ہے بجز شہرت اور جاہ کے صاف دوسرو ں کی نظروں میں بڑا ہونا ہے سویہ خودکتنی بڑی بلاہے یہ غیرمحقق ایسی ہی ٹھوکر یں کھاتے ہیں اور کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچتے اصل چیزعبدیت ہے اور ان باتوں سے عبدیت کے خلاف فرعونیت پیدا ہوتی ہے کہ یہ تو لوگوں کو ذلیل اور حقیر سمجھے اور دوسرے اس کو بزرگ اورولی اور بڑی جانیں اور یہ جوقلت اختلاط مع الانام کی تعلیم فرمائی اس میں بھی ایک حد ہے ورنہ اس سے بھی انسان کی ایک امتیازی شان معصوم ہوتی ہے اورحد کے اندررہ کر یہ خرابی نہیں ہوتی اعتدال کے ساتھ ملنے میں اس کو اوروں سے اور دوسروں کو اس سے نفع پہنچتا رہتا ہے جس کے متعلق ارشاد ہے طریقت بجز خدمت خلق نیست بہ تسبیح وسجادہ ودلق نیست ( طریقت میں اصل نافع چیز خدمت خلق ہے صرف تسبیح لے لینا اور گڈری پہن لینا طریقت نہیں ہے 12) شریعت کا یہ کیسا عجیب فیصلہ ہےکسی نے خوب کہا ہے شریعت پر بلکل صادق آتا ہے زفرق تابقدم ہر کجا می نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا ست (اے محبوب تیرے سرسے پیرتک جہاں بھی نظرکرتا ہوں تیری ہرادا دامن کو کھینچتی ہے کہ بس مجھی کو دیکھے جا۔ 12) یہ چیزیں کسی کی صحبت میں رہنےاور جوتیاں سیدھیاں کرنے سے نصیب ہوتی ہیں اور بدوں کسی کامل کے اس راہ میں مقصود تک پہنچنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ محال ہے اور صحبت کامل کے بعد یہ شان ہوجاتی ہے بینی اندر علوم انبیاء بے کتاب ومعیدواوستا اور یہ شا ن ہوجاتی ہے جملہ اوراق وکتب درنارکن سینہ راا نو رحق گلزار کن (علوم کے اسباب ظاہری ) اوراق وکتب کو فنا کردو اور نورحق سے سینہ کو گلزار بنالو تاکہ علوم وہبی ہم کو عطاہوں ۔ 12) ایسوں ہی کے پاس جاکر یہ برتاؤ کرو جس کومولانا فرماتے ہیں قال را بگذر مرد حال شو پیش مردے کاملے پا مال شو