ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
کچھ عرصہ بعد تندرست ہوکر آیا اوربعد تعارف دو روپیہ حضرت کی خدمت میں پیش کئے بعد اصرار حضرت نے قبول فرمالئے کہتا ہے کہ مولوی جی روپئے تولے کررکھ لئے اوریہ پوچھا بھی نہیں کہ کیسے ہیں حضرت نے دریافت فرمایا اب بتلادے کیسے ہیں کہتا ہے کہ میں دو روپیہ ماہوار کی افیون کھاتا تھا اس کے چھوڑ دینے پرنفس بڑا خوش ہوا کہ اب دو روپیہ ماہوار بچا کریں گے بڑا فائدہ ہوا میں نے کہا کہ تجھے خوش نہ ہونے دوں گا یہ دو روپے اپنے پیر کو دیا کروں گا اب یہ اپنی زندگی تک دیا کروں گا میں کہتا ہوں کہ اس دقیقہ کی طرف شیخ کامل کا ذہن پہنچے تو پہنچے نفس کے کید خفی کو کیسا سمجھا اور اس گنوار نے کیسے خلوص کے ساتھ توبہ کی تکلیف کا نام تک نہیں سلف میں البتہ بڑے بڑے لوگوں کی ایسی نظیریں موجود ہیں مثنوی مولانا رومی می ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی پربڑی جدوجہد کے بعد غلبہ پایا اوراس کے سینے پرچڑھ کربیٹھ گئے تلوار سے اس کا کام تمام کرنا چاہتے تھے کہ اس نے آپ کے منہ پرتھوک دیا آپ چھوڑ کرالگ ہوگئے اس یہودی کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی اس کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ ہمارا جو کام بھی ہوتا ہے اللہ کے واسطے ہوتا ہے نفس کے واسطے نہیں ہوتا جب تک تجھ کو پچھاڑا اور تلوار تیرے قتل کوا ٹھائی یہ سب اللہ کے لئے تھا جب تونے منہ پر تھوک دیا تو ایک نیا غصہ پیدا ہوا اس لئے شبہ پیدا ہوگیا کہ اب کہیں اس کا قتل نفس کے واسطے نہ ہو اس لئے چھوڑدیا وہ یہودی ایمان لے آیا اب بھی اللہ کے بندے مخلص ہیں گو کم سہی ابھی کا واقعہ ہے کہ یہاں ایک مسجد جولا ہوں کے محلہ میں ہے وہاں کے مہتمم کی درخواست پرکہ وہ بھی جولا ہے ہی ہیں اور غریب آدمی ہیں آٹھ روپیہ میں نے مسجد کی مرمت کی مد میں دیئے اور یہ کہ دیا کہ فی الحال اتنا ہی انتظام ہوسکا بقیہ کا کچھ اور انتظام کرلیا جاوے انہوں نے اس میں سے سات ورپیہ رکھ لئے اور ایک روپیہ واپس نہ کرتے بعض طبیعتیں سلیم ہوتی ہیں ابوالحسن نوری ایک بزرگ ہیں ایک بار دریا کے کنارے کنارے جارہے تھے دیکھا کہ ایک کشتی سے شراب کے مٹکے اتررہے ہیں معتصم باللہ کا زمانہ تھا اس کے لئے وہ مٹکے آئے تھے مگراس اطلاع کے بعد بھی عصا لے کرمٹکے توڑنے شروع کئے مٹکے دس تھے ان میں سے نو تو توڑڈالے اورایک چھوڑ دیا متصم باللہ کو اطلاع ہوئی یہ بزرگ بلوائے گئے معتصم