ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
سب کے پائے ملا کر خوب کس کرباندھد دیدیئے اور پڑکرسوگئے پھروالد صاحب بھی آکرلیٹ گئے اتفاق سے بارش آئی تو والد صاحب اٹھے اورہم کو بھی اٹھایا بچپن کی نیند تھی ہوں ہوں کرکے پھرسو گئے والد صاحب جھنائے نہیں اٹھتے تو پڑا رہنے دیا اور اپنی چار پائی گھسیٹی اب وہاں تینو چارپائیاں ایک چلی آرہی ہیں بے حد غصہ ہوئے اور فرمایا کہ ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں اب سب بھیگ رہے ہیں چاقو تلاش کرکے لائے اور ان رسیوں کو کاٹا تب وہاں سے چارپائیاں اٹھ سکیں صحیح تو یاد نہیں کہ اس حرکت پرکوئی چپت لگایا نہیں ایک اور کھیل یا د آٰیا یہ بھی میرٹھ کا واقعہ ہے دیوالی کے روز شب کے کوجودوکانوں کے سامنے چراغ جلتے رکھدیئے جاتے تھے ہم دونوں بھائی کئی سال تک ایسا کرتے کہ رومال ہاتھ میں لے کر ایک طرف سے بجھاتے ہوئے چلے گئے اور واپسی میں دوسری طرف کے بجھا دیئے مگر کوئی کچھ نہیں کہتا حالانکہ ہماری کوئی حکومت نہ تھی مگر والد صاحب کا لحاظ تھا حتیٰ کہ برا تک نہیں مانتے تھے فرمایا ایک مرتبہ میرٹھ میں میاں الہی بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو مسجد تھی سب نمازیوں کے جوتے جمع کرکے اس کے شامیانہ پرپھینک دیئے نمازیوں میں غل مچا کہ جوتے کیا ہوئے ایک شخص نے کہا کہ یہ لٹک رہے ہیں مگر کسی نے کچھ نہیں کہا یہ خدا کا فضل تھا باوجودہ ان حرکتوں کے اذیت کسی نے نہیں پہنچائی وہ ہی قصہ رہا جیسا کسی نے کہا ہے : تم کوآتا ہے پیار غصہ ٭ ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے یہ سب اللہ کی طرف سے ہے ورنہ ایسی حرکتوں پرپٹائی ہوا کرتی ہے فرمایا کہ ایک صاحب تھے سیکری کے ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی بہت ہی نیک اور سادہ آدمی تھے والد حاحب نے ان کو ٹھیکہ کے کام پررکھ چھوڑا تھا ایک مرتبہ کمریٹ سے گرمی میں بھوکے پیا سے پریشان گھر آئے اور کھانا نکال کرکھانے میں مشغول ہوئے گھرکے سامنے بازار ہے میں نے سڑک پرسے ایک کتے کا پلہ چھوٹا سا پکڑکر گھر آکر ان کی دال کی رکابی میں رکھ دیا بیچارے روٹی چھوڑ کر کھڑے ہوگئے اور کچھ نہیں کہاں جہاں اس قسم کی کوئی بات شوخی کی ہوتی تھی لوگ والد صاحب کا نام لے کر کہتے کہ ان کے لڑکوں کی حرکت معلوم ہوتی ہے مگر کوئی کچھ کہتا نہ تھا اوران شوخیوں پرکبھی والد