ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
مجھ سے دریافت کرلیتے کہ میں فلاں شخص ہوں صبح آیا ہوں مجھ کو ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے اجازت چاہتا ہوں مگر کچھ نہیں جو جی آیا کہنا شروع کردیا کوئی اصول ہی نہیں بولنے کے موقع پرخاموش اور خاموشی کے موقعہ پر بولنا ۔ اب میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں آپ کو بولنے کا بڑا شوق ہے اب دیکھتا ہوں کیسے بولنے والے ہیں وہ پوچھنے کی بات یہ بات ہے کہ اگر میں کام سے فارغ ہوتا جو میں نے اپنے ذمہ لیا ہے تو کیا پڑھنے پڑھانے کا مشغلہ نہ رکھتا جب یہ مشغلہ نہیں تو سمجھ لیجئے کہ میں فارغ نہیں پھر مشغول آدمی کو دوسرے شغل میں لگانا کیا بے موقع نہیں اس کا جواب دیجئے اس پروہ خاموش رہے ۔ فرمایا جواب دیجئے آپ کو تو بولنے بلانے کا مشغلہ پسند ہے اب وہ بسندیدگی کہاں گئی ۔ افسوس ہے کیوں آپ لوگ آکر خود بھی پریشان ہوتے ہیں اور مجھ کو بھی پریشان کرتے ہیں میں اپنے اس طرز کے متعلق آپ سے کیا عرض کروں مگر کچھ عرض کرتا ہوں پہلے جس زمانے میں سفر کرتا تھا اس وقت کی خدمت میں اور جب سے سفر بند ہوا ہے اس وقت کی خدمت میں زمین آسمان کا فرق ہے الحمداللہ جب سے نکما ہوکر پڑگیا ہوں اور اکثر اصلاح کے باب میں لوگوں سے لڑائی بھڑائی رہتی ہے میں تو کھلی آنکھوں مشاہدہ کرتا ہوں کہ لوگوں کو بے حد نفع ہے اس لئے میں خیر خواہی سے آپ سے کہتا ہوں کہ مجلس میں خاموش بیٹھے رہا کیجئے اس کا نفع اس وقت آپ کو محسوس نہ ہوگا مگر یہاں سے جانے کے بعد آپ محسوس کریں گے تب اس بولنے پرخاموشی کو ترجیح دیں گے ۔ ایک اور ضرورت بات عرض کرتا ہوں کہ اگر یہاں قیام طویل ہوتب تو تعلیم کی درخواست کا مضائقہ نہیں اور اگر قیصر ہوتو صرف ملاقات اور مجلس میں بیٹھنے پر اکتفا کرنا چاہئے یہ ضروری اصول ہیں مگر آپ کو یہ اصول معلوم نہ تھے تویہ کیا مشکل ہے کہ آپ مجھ سے دریافت کر لیتے مگر نہیں دریافت کیا اس بے فکری کو خدا غارت کرے باستثناء قلیل قریب سب ہی کو اس بلاء میں ابتلاء ہے یا تو اس طریق کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے اوراگر اس طرف متوجہ ہوئے بھی تو یہ نور برسایا خوب کہا ہے اگر غفلت سے باز آیا جفا کی ٭ تلافی کی بھی ظلم نے تو کیا کی