ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
چند خوانی حکمت یونیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں ( یونانیوں کی حمکت کب تک پڑھوگے ایمان والوں کی حکمت بھی پڑدیکھو ۔12) مگر یہ بدوں کسی کامل کی صحبت کے پیدا ہونا مشکل ہے کسی کی جوتیاں سیدھی کرو اسی کو فرماتے ہیں بے عنایات حق وخاصاں حق گر ملک باشد سیہ ہستتش ورق ( حق تعالٰی اور ان کے خاص بندوں کی عنایتوں کے بغیر اگر فرشتہ بھی ہے تو اس کا بھی نامہ اعمال سیاہ ہے ۔ 12) جس کسی اہل محبت اختیار کرو اور اپنا کچا چٹھا اس کے سامنے رکھ دو وہ تم کو منزل مقصود پرلے جائیگا اور دشوار گھاٹیوں سے نہایت آسانی اور سہولت سے نکال لے جائے گا اسی صحبت کو مولانا فرماتے ہیں قال رابگذراو مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو ( قال کو چھوڑ کرمرد حال بن جاؤ، اور کسی مرد کامل کے آگے پامالی ہوجاؤ۔ 12) باقی بدون راہبر کے اس طریق میں رکھنا سخت خطرہ ہے بڑی ہی نازک راہ ہے اسی کومولانا فرماتے ہیں یا ر باید راہ راتنہا مرد بے قلاؤ زاندریں صحرا مرد ( راہ سلوک کے لئے رہبرکی ضرورت ہے ، بغیر رہبر کے اس جنگل میں تنہا مت جاؤ ۔ 12) مگر یہ نہ سمجھا جائے کہ سب کچھ وہی کرے گا یہ بھی آج کل عام غلطی ہورہی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ تم کو تدابیر بتلائے گا اس لیے کہ وہ اس راہ کا واقف ہے وہ اس کو طے کرچکا ہے باقی کا م تم کوہی کرنا پڑے گا اوروہ کام اگرنفس کوشاق معلوم ہوتو اس کا سبب محبت کی کمی ہے ورنہ محبت وہ چیز ہے کہ بڑے سے بڑے مشکل کام کو آسان کردیتی ہے اور یہ سب دشواریاں ہم کو نظر آرہی ہیں وہ نہ ان کے نزدیک کون مشکل ہے پس اپنی قوت کو مت دیکھو ہم ان کے کرم پرنظر کرو پھر خود ہمت قوی ہوجائے گی اسی کو مولانا فرماتے ہیں تو مگو مارا بداں باز نیست باکریماں کارہا دشوار نیست ( تم یہ مت کہو کہ اس شاہ تک رسائی نہیں ہوسکتی ( وہ کریم ہیں اور) کریموں