ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
تب بھی اللہ تعالٰی ان کو نہ بخشے گا ۔12) آپ نے ارشاد فرمایا خیرنی فاخترت اور فرمایا سازید علی السبعین ( مجھ کو اختیار دیا گیا ہے لہذا ایک مشق کو میں نے اختیار کرلیا ) حضور نے یہاں پر محض الفاظ سے تمسک کیا اورمعنی کی طرف التفات نہیں فرمایا بلکہ فرط رحمت کی وجہ سے صرف الفاظ سے تمسک کیا اس سے معلوم ہوا کہ بعض دفعہ مصلحت دینیہ سے محض عنوانات سے کام لینا بھی سنت سے ثابت ہے خلاصہ یہ ہے کہ عنوان کو بعض آثار میں بڑا دخل ہوتا ہے اس کی تائید میں ایک قصہ بیان کرتا ہوں میں ایک مرتبہ سخت بیمارہوگیا ایک طبیب کے پاس قارورہ بھیجا قارورہ دیکھ قارورہ لے جانے والا سے کہا کہ یہ شخص زندہ کیسے ہے اس کی حرارت عزیزیہ توبالکل ختم ہوگئی ہے اس نے آکر مجھ سے کہا مجھ بہت بڑا اثر ہوا میں نے اس سے کا یہ کیا بیہودگی ہے تم نے مجھ سے کیوں کہا اس نے غلطی ہوگئی میں نے کا اس کا تدارک بتاؤ اس نے تدارک پوچھا میں نے کہا واپس جاؤ اور آکر مجھ سے یوں کہو کہ حکیم صاحب نے کہا ہے کہ اس وقت میں نے غور نہیں کیا تھا اچھا خاصہ قارورہ ہے وہ واپس گیا اور آکر میرا سکھایا ہوا مضمون مجھ سے نقل میں نے ہی سکھا کر بھیجا ہے اور میرا ہی مضمون مجھ سے نقل کیا ہے تویہ عنوان ہی کا اثر تھا جو معنون سے بالکل خالی تھا اور ایک واقعہ اس کی تائید میں یاد آیا ۔ ریاست رام پورمیں ایک درویش تھے ان پرایک قبض کا حال طاری ہوا اس سے وہ اپنے کو یون سمجھنے لگے کہ توشیطان ہے اور تومردود ہوچکا اس حالت میں وہ درویش ایک مولوی صاحب کے پاس آئے یہ مولوی صاحب شیخ بھی تھے مولوی صاحب اس وقت درس میں مشغول تھے دریافت کیا کو ن کہا کہ شیطان مولوی صاحب نے بلاکیس خیال کے لاحول ولاقوۃ الا بااللہ العلی العظیم پڑھ دیا یہ سن کروہ دریش چل دیئے اور اپنے حجرہ پرپہنچ کر مرید سے کہا کہ میں مردود ہوں شیطان ہوں میں اپنے کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہوں اور صورت یہ ہے کہ میں اپنی گردن الگ کرتا ہوں اگر کچھ کھال الجھی رہ جائے اس کو تو الگ دینا اور اس کے بعد درویش خودکشی کرکے ختم ہوگئے ، ایک مولوی مظہر تھے جوموجز میں میرے ہم سبق تھے انہوں نے یہ واقعہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں بیان کیا حضرت مولانا نے سن کر فرمایا کہ ہم تو ان مولوی صاحب سمجھتے تھے مگر معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں اگرمیرے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تومیں کہا کہ پھر گھبرانے کی کیا بات ہے شیطان ہی ہوتو کیا ہے شیطان بھی تو انہیں کا ہے تو نسبت تو