ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
حضرات کی سماع ہی پرموقوف نہ تھی ایک مرتبہ حضرت سلطان جی نے فرمایا کہ کسی قوال کو بلاؤ تلاش کیا اس وقت نہ ملا فرمایا اچھا دیکھو قاضی حمیدالدین ناگوری کا خط آیا ہوا ہے وہ لاؤ لایا گیا فرمایا پڑھ کرسناؤ ایک خادم نے پڑھنا شروع کیا اس کے اول میں یہ عبارت تھی ازخاک پائے درویشاں وگردراہ ایشان بس اسکو سنتے ہی حضرت پروجدطاری ہوگیا تین دن رات یہ ہی کیفیت رہی نماز کے وقت ہوش ہوجاتا اورجہاں نمازسے فراغ ہوا پھراسی کیفیت کا غلبہ ہوجاتا تھا غرض ان کے مغلوب ہونے کی یہ حالت تھی اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ وہ حضرات معذور تھے ان کو برا کہ کر کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہو ایک شخص تھے فضل الرحمن مولانا فیض الحسن کے داماد وہ ایک پنجاب کے بزرگ کی حالت بیان کرتے تھے کہ پنکھے کی آواز پرکواڑکی آواز پران کو وجد ہوجاتا تھا اور ان کے وجد کو آج کل کے جہلاء کے سماع ووجد پرقیاس نہیں کرنا چاہئے اب توسماع شہوت اور لذت کے وابطے سنتے ہیں مولانا نصیرالدین چراغ دہلوی حضرت سلطان جی کے خلیفہ ہیں یہ سماع کے خلاف تھے انہوں نے ایک شخص کے اس سوال پرکہ آپ کے شیخ توصاحب سماع ہیں جواب فرمایا تھا کہ شیخ کافعل سنت نہیں ہوتا یہ حضرت کو پہنچایا گیا کہ نصیرالدین آپ کے متعلق ایسا فرماتے ہیں فرمایا کہ نصیرالدین راست می گویند، یہ حالت ہے ان حضرات کی اب اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ غلبہ حال میں ایسا ہوتا تھا اس لئے وہ حضرات معذور تھے حضرت سلطان نظام الدین صاحب قدس سرہ فوائدالفواد میں سماع کے متعلق چارشرائط فرماتے ہیں سامع مسمع ، مسموع، آلہ سماع اوراس کی اس طرح تفصیل فرماتے ہیں۔ سامع ازاہل دل باشد ازاہل ہواوشہوت نباشد ، مسمع مردتمام باشد کودک وزن نباشد ۔ مسموع مضمون ہزل نباشد ، آلہ سماع چنگ ورباب درمیان نباشد، اسی طرح ایک بزرگ سے ان کے کسی مرید نے اپنے لئے سماع کی اجازت چاہی اورخود ان کے فعل کو سند میں پیش کیا ان بزرگ نے مجلس سماع قائم کراکر اوراس شخص کے ہاتھ میں پانی کا کٹورا بھروا کررکھ دیا اور جلاد سے ظاہر میں کہا کہ اگرایک قطرہ بھی پانی کا زمیں پرگرے فورا اس شخص کی گردن اوڑا دینا اورخفیہ منع فرمادیا وہ کٹورا لئے اسی فکر میں بیٹھا رہا کہ کہیں پانی نہ گرپڑے اورسماع ہوتا رہا آخرجب مجلس ختم ہوگئی بزرگ نے پوچھا کہو کچھ لطف آیا عرض کیا کہ خاک لطف آیا میں تواسی مراقبہ میں رہا کہ اگر ایک قطرہ پانی کا گرا تو وہ میرے خون کا قطرہ ہوگا فرمایا بس تم کو ذراسی مشغولی میں کچھ لطف محسوس نہ ہوا اور یہاں تو چوبیس گھنٹے ارے چلتے ہیں تو ہم کو نفسانی لطف کہاں پھر اپنے کوہمارے ارپر قیاس چہ معنی تویہ لوگ حقیقت میں معذورہیں۔