ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
صراط ہے بس اسی وقت قلب کو سکون ہوگیا پھرتوچین سے کھاتا تھا چین سے سوتا تھا یہاں تک لوگوں نے ستانے اور ایذا پہنچانے کی کوشش کی کہ بھنگن تک سے کہا گیا کہ تو اس گھرکمانا چھوڑدے اس نے جواب دیا کہ چاہے تمام قصبہ چھوڑ جائے مگر یہ گھر نہیں چھوٹ سکتا یہ سب خدا کی طرف سے فضل تھا ورنہ عنایت فرماؤں کی عنایتوں کا کوئی حددود حساب ہی نہ تھا اب کیا کہا جائے وہ قصہ ہی ختم ہوچکا غالب نے خوب کہا ہے سفینہ جبکہ کنارے پہ آلگا غالب خدا سے کیا ستم وجور ناخدا کہئے میں توسب کو دل سے معاف کرچکا ہوں ہاں جن لوگوں نے ستایا سب وشتم کیا بہتان باندھے ان سے خصوصیت کے تعلقات نہیں رکھ سکتا عام مسلمانوں کا ساتعلق رہے گا دل ملنا مشکل ہے ایک بات ہوتو عرض کی جائے قتل کی دھمکیاں الگ تھی خانقاہ خالی کرانے پرزور دینے کے الگ منصوبے ہورہے تھے نماز پیچھے نہ پڑھنے کا اعلان الگ تھا سی آئی ڈی سے تنخواہ پانے کی شہرت الگ دی جارہی تھی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھ کوکسی کے دروازہ پرجانے کی ضرورت پیش نہیں آئی ان ہی لوگوں کو یہاں پربھیج دیا اور قریب قریب سب نے معافی کی درخواستیں کیں میں نے اس نیت سے سب کو معاف کریا کہ میں بھی اللہ کا قصوروار ہوں شاید وہ بھی مجھ کو معا ف کردیں ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں مخالفین کے متعلق فرمایا کہ بکنے بھی دو جس وقت آنکھیں کھلیں گی اس وقت سب پتہ چل جائےگا اورمجھ کوجوجی چاہے کہیں مجھ پر بحمداللہ کوئی اثر نہیں نہ ان کے جواب کی فکر کہ عبث ہے اوریہ حق تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہے کہ مجھ عبث سے طبعا نفرت ہے بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ س فکر میں پڑنا اچھی خاصی مخلوق پرستی ہے کہ ان بیہودوں کی للو پتو کیا کریں کوئی خوش رہے یا ناراض کوئی معتقد کوئی یا نہ آئے سب برابرہے حافظ خوب کہتے ہیں ہر کہ خواہد گو بیاؤ ہر کہ خواہد گو برو داروگیروحا جب ودربان دریں درگاہ نیست ( جس کا جی چاہے آئے اورجس کا جی چاہے چلا جاوے اس درگاہ میں نہ کوئی دربان ہے نہ داروگیر۔ 12) اہل حق کا کوئی کام مخلوق کے راضی کرنے یا ناراض کرنے کی بناء پرنہیں ہوتا بلکہ ہرکام کی بناء رضا حق ہوتی ہے نہ ان کو مخلوق سے طمع ہوتی ہے نہ ان پرمخلوق کا خوف ہوتا ہے کہ جس کی