ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
یہ تھا توکل اختیار کروں اس وقت حضرت مولانا مطبع مجتبائی میرٹھ میں دس روپیہ کے ملازم تھے اب دیکھئے حضرت حاجی رحمہ اللہ کیا جواب فرماتے ہیں کہ مولانا یہ پوچھنا خود دلیل ہے تردد کیا ورتردد دلیل ہے خامی کی اور خامی کی حالت میں ترک اسباب کرنا موجب تشویش ہوگا اور جب پختگی کی حالت پیدا ہوجائیگی تواس وقت پوچھنا تو درکنار اگر کوئی تم کو روکے گا بھی تب بھی رسے توڑا کربھاگو گے اسی طرح یہاں سمجھ لیجئے کہ شیخ اسی استحکام آثارکے لئے عبدیت کے راسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس سے آثار میں استحکام ہوورنہ بدوں کیفیت کے رسوخ کے گاڑی چلنا مشکل ہوتا ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک صورت تویہ ہے کہ انجن کے ذریعہ سے گاڑی چلتی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ کبھی اسٹیشن پردیکھا ہوکہ مال وغیرہ کے ڈبوں کومزدور لائن پردھکیلتے ہیں تو فقدان کیفیت کی مثال مزدور جیسی اور کیفیت پیدا ہوجانے کی مثال انجن جیسی ہے بس شیخ اسی کی کوشش کرتا ہے اور شیخ وطالب میں مناسبت کی اورمناسبت کی عقلا دوصورتیں ہوسکتی ہے ۔ ایک شیخ کو طالب کےمقام پرتنزل کرنا دوسرے طالب کو اپنے مقام پرلے جانا اول میں شیخ کو مشقت ہوتی ہے اور طالب کو سہولت اور ثانی میں بالعکس مگرشیخ کی سفقت وکمال کا مقتضا پہلی صورت ہے اس لئے وہ اس کو اختیار کرتا ہے پس شیخ کے لیے وہ وقت جبکہ وہ طالب کے مقام کی طرف نزول کرتا ہے بہت سخت ہوتا ہے پس شیخ کے لئے وہ وقت جبکہ وہ طالب کے مقام کی طرف نزول کرتا ہے بہت سخت ہوتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کا نزول اس سے بھی سخت ہوتا ہے کیونکہ بوجہ بون بعید (بہت زیادہ فرق ہونے ) کے ان کو زیادہ تنزل کرنا پڑتا ہے خصوص حضور ﷺ کا نزول ) پھر جبکہ مخاطب اس نزول کی قدر بھی نہ کرے تو وہ اس عارض کی وجہ سے اور بھی سخت ہوجاتا ہے اسی لیے حضورﷺ فرماتے ہیں کہ مجھ کو سب انبیاء سے زائد اذبت ہوئی ہے اور یہ مشقت اس پرہے کہ انبیاء علیہم السلام کا فطری امرتھا تسہیل الصعاب ( دشواریوں کوآسان کردینا ) ورنہ دشواری کی کوئی حد ہی نہ رہتی ، توشیخ کا بڑا ہی کما ل ہے کہ طالب کے مقام پرنزول کرکے آتا ہے طالب کواپنے درجہ پر نہیں لے جاتا جیسے ایک طالبعلم میزان پڑھتا ہے اورایک بہت بڑا علامہ اس کو پڑھاتا ہے تووہ علامہ اس کے مقام کی طرف نزول کرگا تب اس کو نفع ہوگا طالب علم کو اپنے مقام کی طرف نہ لیجائے گا اس کے مناسب ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ مجلس میں یہ فرمارہے تھے کہ بلاء بھی نعمت ہے اورلوگ اس تقریر سے متاثرہو