ملفوظات حکیم الامت جلد 4 - یونیکوڈ |
|
من استغنٰے فانت لہ تصدی وما علیک الایزکٰی وامامن جآءک یسعٰی وھو یخشٰی فانت عنہ تلھٰی کلا انھا تذکرہ فمن شاءذکرہ اور ایک مقام پرفرماتے ہیں ۔ ( توجوشخص بے پرواہی کرتا ہے آپ اس کی توفکر میں پڑھتے ہیں حالانکہ آپ پرکوئی الزام نہیں کہ وہ نہ سنورے اور جوشخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور ڈرتا ہے آپ اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں ہرگز ایسا نہ کیجئے ،قرآن نصیحت کی چیز ہے سو جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے 12۔) وان کان کبرعلیک اعراضہم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض اوسلما فی السمآء فتاتیھم بآیۃ ۔ ( اوراگر آپ کو ان کا اعراض گراں گزرتا ہے تواگر آپ کویہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈلو ، پھرکوئی معجزہ لے آؤ توکرو) اور ایک جگہ فرماتے ہیں ۔ ولقد نعلم انک یضیق صدرک بمایقولون ( اور واقعی ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ جوباتیں کرتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں ) غرض جابجا قرآن میں مصرح ہے کہ اس کا شدید اہتمام نہ کیجئے کہ ہدایت ہوہی جائے اور اس تعلیم خداوندی میں ایک رازہے وہ یہ کہ آزادی اور اعتدال کی صورت میں ہمیشہ کرسکتا ہے اسی بناء پرحق تعالٰی فرماتے ہیں کہ اس ثمرہ کے منتظر نہ رہنا چاہئے جس کواہل ظاہرہ ثمرہ کہتے ہیں چنانچہ ارشاد ہے ، انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشآء ( آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کوچاہے ہدایت کردیتا ہے ) سبحان اللہ کیا پاکیزہ اورپرمغز تعلیم ہے چنانچہ یہ فرمایا کرکہ ولقد نعلم انک یضیق صدرک اس سے بچا دیا کہ ضیق صدرمٰیں کیوں مبتلا ہوا جائے چھوڑیئے اس کوجیسے لڑکا پڑھنا نہ چاہے اور استاد پڑھانا چاہے توسخت کوفت ہوتی ہے بس اس کا علاج یہ ہی ہے کہ ایک دوبارتقریر کردے اور کہہ دے کہ جاؤ بھاگو بلاضرورت دوسروں کی فکر میں پڑنا اس کی نسبت ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ہندؤں کا ایک میلہ تھا وہاں کچھ عورتیں نہانے گئیں اوراپنا زیور اتار کرایک شخص کودیدیا کہ اس کو طشت کے نیچے رکھ کراس طشت پربیٹھے رہنا کسی نے دیکھ لیا اورپاس کو اس طرح گذرا کہ دوچار اشرفیاں ٹپکا کرآگے بڑھ گیا یہ محافظ ان کولینے کواٹھا اس چور کا ساتھی پیچھے تھا بس طشت کواٹھا کر سب زیور اوڑالے گیا بس یہی حالت ہوجاتی ہے اس شخص کی بھی دوسروں کی اصلاح کی فکر میں خود