خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
عطا فرمادیں،یہ تو عبادت ہے۔ لیکن یہ کہ اس پنکھے اور مکان کو دیکھ کر دل میں یہ خیال آئے کہ زیادہ دن تک یہیں رہتا، ابھی موت نہ آئے جس سے میرایہ عیش جاتا رہے، بس یہ دنیا آگئی۔ اسی طرح کوئی مدرسہ چلا رہا ہے وہ سوچے کہ میں مہتمم ہوگیا، میرا نام ہوگا، احترام مل رہا ہے، عزتیں ہو رہی ہیں، اس لیے جینے کی خواہش کررہا ہے، یہ دنیا ہے۔ ہاں اگر کوئی یوں کہہ رہا ہے کہ کچھ دن اور زندہ رہ لیتا کہ آپ کے دین کی خدمت کر لیتا کچھ اور روزہ، نماز کر لیتا کہ درجات بلند ہوجاتے، اس کے لیے زندگی مانگ رہا ہے یہ عبادت ہے۔ دیکھوحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا عمل تھا، ایک لاکھ صحابہ تھے، جو آپ کا تھوک اور وضو کا پانی تک چاٹ لیتے تھے، حضرت صدیق اور حضرت عمر جیسے جاں نثار موجود ہیں، اذانوں میں حضور کے نام کا ڈنکا پٹ رہا ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو کچھ اور دن دنیا میں رہ لیں۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا کہ: اَللّٰہُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلٰی؎ اے اللہ! آپ سب سے بڑے رفیق ہیں، صدیق بھی رفیق نہیں، عمر بھی رفیق نہیں، اصلی رفیق تو آپ ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا باغ لگایا لیکن دنیا سے کیسی بے رغبتی تھی، اس لیے مدرسہ ہو یا کچھ اور، دل میں کچھ نہ ہو، دل کو فارغ رکھو اپنے اللہ کے لیے، اگر وہ مل گئے تو زمین و آسمان مل گئے نہیں تو کوئی چیز نہیں ملی ؎ جو تو میرا تو سب میرا، فلک میرا، زمیں میری اگر اک تو نہیں میرا تو کوئی شے نہیں میری اگر وہ ناراض ہیں تو کوئی چیز ہماری نہیں، آنکھوں کو عذاب ہورہا ہے کہ ان آنکھوں سے بد نظری کیوں کی تھی؟ اگر آنکھیں ہماری ہوتیں تو کیا ہم عذاب ہونے دیتے؟ ہم تو مملوک ہیں غلام ہیں، غلام کو اگر آقا مل گیا، وہ راضی ہو گیا تو ساری چیزیں مل گئیں۔ بادشاہ محمود غزنوی نے ایک بار اعلان کیا کہ آج جو جس چیز پر ہاتھ رکھ دے گا ------------------------------