خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
میں اس کو وہ عطا کردوں گا۔ کسی نے وزارت پر ہاتھ رکھ دیا، کسی نے کمشنری پر ہاتھ رکھ دیا، کسی نے جواہرت پر ہاتھ رکھ دیا، باد شاہ تعریف بھی کرتا جا رہا تھا کہ شاباش! تم نے بہت عقل مندی کی اور وہ چیز دیتا بھی جاتا تھا۔ ایاز اٹھا، کسی پر نظر نہ کی اور آکر بادشاہ پر ہاتھ رکھ دیا اور عرض کیا کہ آپ کے الفاظ ہیں کہ جو جس چیز پر ہاتھ رکھ دے گا اس کو آپ وہ چیز عطا کر دیں گے۔ میں آپ پر ہاتھ رکھتا ہوں، میں سلطنت لے کر کیا کروں گا؟ جب سلطان مل جائے گا تو سلطنت تو خود ہی مل جائے گی۔ بادشاہ بھی اللہ والا تھا اسی لیے ایاز اس کا عا شق تھا۔ بڑے بڑے فلاسفر اور بڑے بڑے پی ایچ ڈی اس وقت وہاں موجود تھے ، حیرت میں رہ گئے کہ یہ غریب لڑکا تو ہم سب پر بازی لے گیا۔ ایاز بہت غریب گھرانے کا تھا لیکن محبت خود راستہ سکھاتی ہے۔ امرا رہ جاتے ہیں اور ایک یتیم بچہ آسمانی صحیفوں کو منسوخ کر دیتا ہے ؎ یتیمے کہ ناکردہ قرآں درست کتب خانۂ چند ملت بشست حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ابھی پورا قرآن بھی نازل نہیں ہوا، قرآن کی چند آیات ہی اتری ہیں کہ تمام صحیفۂ آسمانی منسوخ ہوگئے، اور بظاہر دیکھنے میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ؎ گفتہ اینک ما بشر ایشاں بشر ما و ایشاں بستہ خوابیم و خَور اشقیا را دیدۂ بینا نہ بود نیک و بد در دیدہ شاں یکساں نمود ان کافروں نے کہا کہ ہم بھی بشر ہیں اور یہ بھی بشر ہیں، اشقیا کے پاس دیدۂ بینا نہیں تھی،اچھے اور برے ان کی آنکھوں کو یکساں نظر آئے اور حضرت صدیق اکبر کی آنکھوں کو کیا نظر آیا اَلنَّظَرُ اِلَیْکَ کہ حضور کو دیکھتا رہوں۔ حضرت ابو ہریرہ کو حضور کے چہرۂ مبارک میں کیا نظر آتا تھاکَاَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِیْ فِیْ وَجْہِہٖ؎ گویا کہ ------------------------------