خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
مراقبہ کر سکتے ہو، جب حُسن بوڑھا ہو کر زوال ہو جائے تو اب دیکھ سکتے ہو کیوں کہ انگارے میں اب جلانے کی خاصیت ہی نہ رہی اس لیے اس کا دیکھنا اب ناجائز نہیں۔۱۰؍ شوال المکرم ۱۳۸۹ھ مطابق ۲۰؍ دسمبر ۱۹۶۹ءمجلس بعد عشاء مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کے اِلہامی علوم ارشادفرمایا کہ مولانا رومی کے علوم مولانا کی بزرگی و ولایت کی دلیل ہیں۔جس کنویں سے پانی ابل رہا ہو اس کو دیکھ کر یہی کہیں گے کہ اس کا سوتہ بہت بڑا ہے اور اس کا تعلق سمندر سے ہو چکا ہے۔ عجیب عجیب مثالوں سے اپنا مدعا ظاہر فرماتے ہیں کہ بات دل میں چبھ جاتی ہے ۔ایک جگہ دنیا کی مثال مگرمچھ سے دی ہے ۔ مگر مچھ پانی سے سر نکال کر اپنا منہ کھول لیتا ہے سارا جسم پانی میں ہو تا ہے کھلا ہوا منہ باہر کر لیتا ہے۔ اس کے بڑے بڑے دانتوں میں غذا کے ریشے اٹک جانے کی وجہ سے کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ کیڑوں کو دیکھ کر چڑیاں اس کے منہ میں آکر بیٹھ جاتی ہیں۔سمجھتی ہیں کہ زمین کے کسی حصے سے کیڑے نکل رہے ہیں۔ جب بہت سی چڑیاں جمع ہوجاتی ہیں تو یک لخت منہ بند کر لیتا ہے اور سب چڑیوں کو نگل جاتا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ دنیا بھی مگر مچھ کی طرح ہے۔ اس کے اوپربسنے والے اپنے اپنے مزوں میں مگن ہیں کوئی ٹیلی وژن میں، کوئی شراب کباب میں کوئی روپیہ پیسہ کمانے میں کہ اچانک ایک دن یہ منہ بند کر لیتی ہے اور قبر میں ہمیشہ کے لیے نگل جاتی ہے۔ دنیا والے سمجھ رہے ہیں کہ ہمیں خوراک مل رہی ہے یہ خبر نہیں کہ خود خوراک بن چکے ہیں بس کچھ عرصہ کی دیر ہے۔ پھر فرمایا کہ دنیا مشقت کا گھر ہے یہاں کمانے کی بھی حاجت ہے، پیشاب اور پاخانہ کی بھی حاجت ہے، کلفت و غم سے بھی دو چار ہونا پڑتا ہے، اور جنّت عیش کا گھر ہے وہاں کوئی مشقت نہ ہوگی، اور وہاں کی نعمتوں کی آب و تاب ہر لحظہ ایک سی رہے گی، کسی چیز میں زوال نہ ہوگا ۔یہی وجہ ہے کہ جنّت میں نیند بھی نہیں آئے گی کیوں کہ نیند سے تو آدمی اتنی دیر کے لیے لطف سے محروم ہو جاتا ہے اور جنّت کی کسی نعمت میں انحطاط نہ ہوگا ہر لحظہ عیش قائم رہے گا،جنّت میں ہر وقت آدمی عیش و عشرت میں