خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
اﷲ کے دشمنوں سے بغض رکھنا شعبۂ ایمان ہے جب کسی کافر کی کوئی بات بھلی معلوم ہو تو سمجھ لو کہ دل میں بیماری ہے، ایمان نہیں ہے۔ باپ کے دشمن سے دلی بغض ہوتا ہے یا نہیں ؟ایسے ہی اﷲ کے دشمن سے جانی بغض ہونا چاہیے چاہے وہ چاند پر جائیں یا مریخ پر ۔ کیا ان کا چاند پر پہنچ جانا انہیں اﷲ کے عذاب سے بچالے گا؟ جو اپنے رب کو نہ پہچان سکے، اگر انہوں نے چاند کو پہچان لیا تو کیا کمال ہے۔ ان کے دعوے ایسے ہیں جیسے ایک گدھے نے پیشاب کیا اس میں ایک تنکا بہنے لگا ایک مکھی اس پر بیٹھ گئی اور سر ہلا ہلا کر کہنے لگی کہ میں بہت بڑی تیراک ہوں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ صاحبِ تاویلِ باطل چوں مگس وہمِ او بولِ خر و تصویرِ خس چاہے سائنس ہو یا کچھ اور قرآن و وحی کے سامنے ایسی ہی ہے۔ کافر اوہام میں مبتلا ہیں، ان کا وہم کیا ہے جیسے گدھے کا پیشاب اور خس کی تصویر۔ اصل علوم تو علومِ نبوت ہیں جو لوگوں کی جانوں کو اﷲ سے با خبر کر دیتے ہیں ۔علم کے ساتھ عمل کی توفیق مانگنی چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ گناہوں سے بچائے۔گناہ کی پُر فریب لذّت کی مثال گناہ کی لذّت سے پناہ مانگو۔ اس لذت سے اﷲ محفوظ فرمائے۔ گناہوں میں ایک لذّت رکھ دی ہے اس لذّت پر مت جانا، بس دو منٹ کی لذّت ہے ا س کے بعد تکلیف ہی تکلیف ہے۔ جیسے پاخانے کی کوڑی پر برسات میں سبزہ جم آتا ہے جو دیکھنے میں بڑا خوشنما معلوم ہو تا ہے جیسے چمن کھلا ہو ا ہو لیکن چمن اوپرہی اوپر کا ہے ،جس نے پہلے اس پاخانے کو نہیں دیکھا ہے وہ اس کے دھوکے میں آجائے گا۔ بس گناہ بھی دیکھنے میں ایسے ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اور ان کی لذّت بھی اتنی ہی دیر کی ہے بعد میں اﷲ کے قہر و غضب کے سوا کچھ نہیں مل سکتا ۔شیطان گناہوں کی لذّتوں کو خوبصورت کرکے دکھا تا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ تم اﷲ کے راستے پر نہ چلو، لیکن اﷲ اور اس کا رسول