خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
روح کی نشو و نما کے لیےدوحرارتوں کی ضرورت اور اس کی تفہیم کی مثال ارشاد فرمایا کہ جیسے درخت کے ہرے بھرے ہونے کے لیے دو حرارتوں کی ضرورت ہوتی ہے،ایک داخلی دوسری خارجی۔ داخلی حرارت کے لیے درخت کی جڑوں میں کھاد دی جاتی ہے جس سے یہ حرارت درخت کے رگ و ریشہ میں دوڑ جاتی ہے، اور درخت کو خارجی حرارت آفتاب کی شعاعوں سےپہنچتی ہے۔یہ دونوں حرارتیں درخت کی نشو و نما کے لیے ضروری ہیں یہی وجہ ہے کہ اگر دونوں حرارتوں میں سے کوئی ایک حرارت بھی درخت کو نہ ملے تو درخت سوکھ جاتا ہے۔ مثلاً اگر آفتاب کی خارجی حرارت ملے لیکن کھاد نہ دی جائے تو بھی درخت ہرا بھرا نہ ہوسکے گا کیوں کہ داخلی حرارت درخت کو نہیں مل رہی۔ اس طرح اگر چاہے کتنی ہی قیمتی کھاد ڈال دی جائے لیکن اس درخت کو آفتاب سے خارجی حرارت حاصل نہ ہو سکے تو بھی درخت پھل پھول نہیں سکتا۔ اسی لیے جن کھیتوں کے کنارے درخت ہوتے ہیں ان درختوں کے سائے میں پودے پیدا نہیں ہوتے اور اگر ہوتےبھی ہیں تو ان میں پھل نہیں آتا کیوں کہ خارجی حرارت ان پودوں کو نہیں مل رہی۔ اسی طرح روح کی نشو و نما کےلیے بھی دو حرارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک شیخ کی صحبت کی خارجی حرارت، اور دوسری ذکر اللہ اور اجتناب عن المعاصی کی داخلی حرارت۔ جس شخص کو یہ دونوں حرارتیں نصیب ہوجائیں اس کی روح کا درخت اللہ کی محبت سے سدا بہار ہوجاتا ہے۔۴؍جمادی الاوّل ۱۳۸۹ھ مطابق ۲۰؍جولائی ۱۹۶۹ ء، بروز اتوار مرشد کے لیے ولی ہونا ضروری ہے ارشاد فرمایا کہ مرشد کے معنیٰ ہیں راستہ دکھانے والا یعنی اللہ کا رستہ دکھانے والا۔ یہ لفظ قرآنِ پاک سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: