خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
تو مردہ پڑا ہوا ہے تجھے کام کیا تو بھی ختم ہو گیا سب کام ختم ہو گئے اب کچھ باقی نہیں صرف اﷲ ہے۔ اس مراقبے سے ان شاء اﷲ ذکر میں وساوس بھی منقطع ہو جائیں گے اور جمعیتِ قلب کے ساتھ اﷲ کا نام لینے کی توفیق ہو جائے گی۔ارواح پر محبت کی اَزلی چوٹ ارشاد فرمایا کہ ؎ ذکرِ حق آمد غذا ایں روح را مرہم آمد ایں دل مجروح را مرہم کی قدر کس کو ہوتی ہے ؟ جس کے زخم لگا ہوتا ہے۔یہ حق تعالیٰ کا ذکر ان ہی دلوں کا مرہم ہے جو اﷲ کی محبت سے زخمی ہو چکے ہیں۔ ان زخمی دلوں سے اس مرہم کی قدر پوچھو،یہ مرہم کہ ان کے زخم پر کیسی ٹھنڈک عطا کر تا ہے۔ ہاں جن کے دل پر یہ زخم نہیں ہے ان کو اس مرہم کی کیا قدر ہو گی ۔یہ زخم کہاں لگتا ہے؟ یہ زخم ہماری روحوں پرروزِ ازل سے لگا ہو ا ہے عالم ارواح میں اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؎کی چوٹ میاں نے پہلے ہی لگا دی ہے۔ ہاں یہ زخم بھر جاتا ہے ہماری غفلت سے، ذرا ان مجلسوں میں بیٹھو جہاں اس چوٹ کو یاد دلایا جاتا ہے، ان مجلسوں میں یہ زخم پھر ہرا ہو جائے گا ۔ جیسے جب پُر وا ہوا چلتی ہے تو پرانی چوٹ پھر ابھر آتی ہے اسی طرح ان مجلسوں میں بیٹھو جہاں اﷲ کی محبت کی پروائیاں چلتی ہیں یعنی مجالسِ اہل اﷲ،ان پروا ئیوں سے یہ چوٹ پھر ابھر آئے گی اور اﷲ کی محبت کا زخم پھر ہرا ہو جائے گااس کے بعد جب ذکر کرو گے پھر مزہ آئے گا زخم لگنے کے بعد ہی اس مرہم کی قدر ہوگی۔ مدرسہ روضۃ العلوم بعد فجر سب سے پہلی بار ایک رات کے قیام کے بعداﷲ تعالیٰ کے ملنے کے دو ہی راستے ہیں ارشاد فرمایا کہ اللہ صرف دو راستوں سے ملتا ہے:یا محبتِ نبی سے یا محبتِ ولی ------------------------------