خزائن معرفت و محبت |
§ہم نوٹ : |
|
مٹھاس عطا فرمائیں گے جس کو وہ اپنے دل میں موجود پائے گا۔ لیکن یہ مٹھاس اس وقت عطا ہوتی ہے کہ نظر کے ساتھ دل کو بھی پھیرو۔ یہ نہیں کہ نظر تو پھیر لی لیکن دل میں صورت جمی ہوئی ہے اور خیالات پکا رہے ہو بلکہ نظر بھی اور دل بھی پھیرو یعنی استغفار کر نے لگو یا ذکر کر نے لگو۔ ہر غم کا علاج اپنے اﷲ سے مشغول ہو جانا ہے۔ دعا کے بعد فرمایا کہ مولانا شاہ فضلِ رحمٰن صاحب گنج مراد آبادی فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی دعاؤں کے بعد حضور کی اُمّت کے لیے یہ دعا مانگے گااَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَللّٰھُمَّ ارْحَمْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَللّٰھُمَّ انْصُرْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اس کی برکت سے اس کی تمام دعائیں قبول ہو جائیں گی۔طالب علموں کے لیے نصیحت اور بچوں کو دیندار بنانے کی تلقین ایک طالب علم سے مخاطب ہو کر فرمایا جو مدرسہ سے آیا تھا کہ جتنی تعداد تمہیں بتادی ہے اس سے زیادہ ذکر مت کر نا کہ ہر وقت تسبیح ہاتھ میں لیے گھومتے رہو اورپڑھائی وغیرہ سب چھوڑ دو۔ارشاد فرمایا کہ بچے کی روح سادی تختی کی طرح ہے، سادی تختی پر جو حروف لکھ دیے جاتے ہیں وہ پختہ ہو جاتے ہیں۔ اس وقت جو رنگ چڑھ جائے گا وہ پختہ ہو گا،پھر عمر بھر نہیں اترتا۔ جو ماں باپ بچپن میں اپنے بچوں کو دیندار نہیں بناتے وہ پھر اکثر بے دین ہی رہتے ہیں۔ پھر آخر میں خود پچھتاتے ہیں، کیوں کہ جو بچہ اﷲ کا حق نہیں پہچانتا وہ باپ کا حق بھی نہیں پہچانے گا۔ یہاں ایک صاحب ہیں انہوں نے اپنے بچے کو دین سے بالکل بے خبر رکھا اور انگریزی تعلیم میں اپنا سارا روپیہخرچ کردیا۔ جب اسی لڑکے سے تکلیف پہنچی تو میرے پاس آئے اور کہا میں لڑکے کو سمجھادوں کہ باپ کے حق کو پہچانے۔ میں نے کہا کہ تم نے اﷲ کا حق اسے کبھی نہ سکھایا اب چاہتے ہو کہ وہ تمہارا حق سیکھ لے ۔ دیندار اولاد ہی کام آتی ہے۔لیکن آج کل بچوں کو دین سے بالکل بے خبر رکھتے ہیں اور ساری توجہ کافروں کی زبان پڑھانے پر صرف کرتے ہیں۔ پہلے بالکل دنیادار بنادیا پھر چاہتے ہیں کہ وہ ان کی اطاعت بھی کرے۔