خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
ظاہر ہوتی ہے کہ یہ لوگ ہماری رضا کے طالب ہیں۔ یہ ہمیں اس لیے یاد نہیں کرتے کہ یہ لوگوں میں اولیا ء اللہ مشہور ہوجائیں یا مفسر اور محدث مشہور ہو جائیں بلکہ یہ ہمارا ارادہ کرتے ہیں،یہ ہماری ذات کے عاشق ہیں۔ ان کی یاد سے ان کی غرض صرف یہ ہے کہ ہم ان کو مل جائیں۔ ہماری محبت میں انہوں نے ہر دوعالم سے صَرفِ نظر کر لیا ہے، سلطنتوں سے بے نیاز ہیں، جان سے بے نیاز ہیں،یہ صرف ہمیں چاہتےہیں۔۳؍ربیع الاوّل ۱۳۹۱ھ مطابق ۲۹ ؍اپریل ۱۹۷۱ء، بروز جمعرات سب سے بڑی دولت سرمایۂ ایمان ہے ارشاد فرمایا کہ ایمان کی دولت سب سے قیمتی دولت ہے۔ دنیا کی کوئی دولت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ؎ یاد او سرمایۂ ایماں بود جو شخص دولت مند ہو نا چاہے تو اصل دولت مند وہی ہے جس کے پاس یہ دولتِ ایمان ہو۔ اس دولت کی قیمت کا اندازہ لگالو کہ زمین و آسمان صرف اسی کی وجہ سے قائم ہیں۔ جس دن کوئی ایمان والا نہ رہے گا اس دن آسمان گر پڑے گا۔ سورج، چاند، ستارے سب گر پڑیں گے۔ ایمان کی طاقت وہ طاقت ہے جو زمین و آسمان کو روکے ہوئے ہے، یہ نہیں تو یہ کائنات بھی نہیں رہے گی۔ کائنات کی جان ہے ایمان۔ لیکن یہ ہے کس کے پاس؟ یہ ان کے پاس نہیں ہے جن کے جسم پر ریشم کا لباس ہے لیکن اللہ سے باغی ہیں، اور اگر کسی کے کپڑوں پر پیوند لگے ہوئے ہیں، خستہ حال ہے لیکن دل میں ایمان کی دولت پوشیدہ ہے وہ اصل دولت مند ہے، کیوں کہ موتی تو اندر چُھپاکر ہی رکھا جاتا ہے۔ اس بادام کی کیا قیمت ہے جس کا چھلکا تو خوب چکنا رنگ و روغن و الا ہو لیکن جب اس کو پھوڑا جائے تو اندر سے خالی ہو، گِری یعنی مغز نہ ہو۔بادام کی قیمت تو گِری ہی سے ہوتی ہے۔ جسم بھی ایک چھلکا ہے اور ایمان گِری ہے جس چھلکے میں یہ گِری ہے وہی قیمتی ہے چاہے اوپر سے جسم کا چھلکا خستہ و خراب ہو۔ پس قیامت کے دن جب کافروں کے خوبصورت جسموں کو توڑا جائے گا اور ایمان کی گِری ان میں سے نہ نکلے گی اس دن معلوم ہوگا کہ یہ جسم کتنے بے قیمت و خراب ہیں۔ اگر چہ دنیا میں یہ بڑے چمک دمک والے معلوم ہوتے تھےلیکن