خزائن معرفت و محبت |
§ہم نوٹ : |
|
ہیں یُخْرِجُہُمْ فرماکر یہ بتادیا کہ بار بار ہم تم کو ظلمات سے نکالتے رہتے ہیں،یہ اخراج من الظلمات ایک دفعہ ہی نہیں ہوتا بلکہ ہمارا یہ فعل ہمیشہ تجدد کے ساتھ جاری ہے، تم ظلمات میں جاتے رہتے ہو ہم تمہیں نکالتے رہتے ہیں،اور یہ کیوں ہے؟ اس لیے کہ اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ہم تمہارے ولی اور دوست ہیں۔ پس اس ولایت کا حق ادا ہورہا ہے۔ اپنی ولایت کا حق ادا کرنے کو ہم تمہیں ظلمات سے نور کی طرف نکالتے رہتے ہیں۔ایک تفسیری غلطی کا ازالہ ارشاد فرمایا کہ آج کل لوگ بہت سی تفسیری غلطیاں کررہے ہیں جیسے لوگ آیت کا ترجمہ غلط کرتے ہیں: لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ؎ اور اس سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ عالمِ بے عمل کو وعظ و نصیحت کرنا جائز نہیں حالاں کہ یہ غلط ہے،کیوں کہ اس آیت کا ترجمہ ہی وہ نہیں ہے جو عوام کرتے ہیں بلکہ ترجمہ یہ ہے کہ کہتے تو ہو کرتے کیوں نہیں۔ اور اس آیت کی شان نزول یہ تھی کہ بعض صحابہ نے جہاد کی تمنا کی تھی جب حکم نازل ہوا تو طبعی تردد ہوا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آخر میں ان بزرگ سے فرمایا کہ میں ایک دعا یہ بھی کرتا ہوں کہ اے اﷲ!آپ کے عاشقین مخلصین صادقین روئے زمین پر جہاں کہیں بھی چُھپے ہوئے ہوں جن کی جانیں آپ کے لیے مضطر ہوں مجھے ان کی لقا و زیارت نصیب فرما۔ میرا شعر ہے ؎ مری زندگی کا حاصل مری زیست کا سہارا ترے عاشقوں میں جینا ترے عاشقوں میں مرنا اے اﷲ!جب موت بھی آئے تو آپ کے کچھ خاص صاحب نسبت بندے گردوپیش ہوں اور ان کی صحبت ہی میں دم نکلے۔ اور ایک دعا یہ مانگتا ہوں اَللّٰہُمَّ اَخْلِصْنَا بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ اے اﷲ!ہمیں آخرت کے کاموں کے لیے خالص فرما۔ ------------------------------