خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
کچھ اپنی بڑائی کا خیال آگیا کہ آج میں کچھ ہوگیاتو فوراً استغفار کرو کہ اے اللہ! اس مجمع کو دیکھ کر جو میرے نفس میں اپنی بڑائی کے جو خیالات پیدا ہوئے ہیں آپ انہیں معاف فرمادیجیے۔ دوسرے یوں کہو کہ اے اللہ! آپ کی بات لوگوں سے کہنے کا حق ادا نہ ہوا، لاکھ حسین الفاظ، واقعات اور مثالیں ہم بیان کریں لیکن کیوں کہ آپ کی ذات تو ایسی خوبیوں والی ہے کہ اگر سمندر روشنائی ہوجائے اور اس سے آپ کی خوبیاں لکھنی شروع کی جائیں تو وہ ختم ہوجائے اور آپ کی خوبیاں ختم نہ ہو سکیں : قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَ لَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا ؎عُجب و کبر بلکہ ہر مرض کا علاج خاتمہ کا خوف ہے عبادت کے بعد توبہ کیا کرو کہ اے اللہ! آپ کی بات کہنے کا حق ادا نہ ہوا، ذکر کا حق ادا نہ ہوا، نماز کا حق ادا نہ ہوا۔ ذرا سی عبادت کر کے ہم اپنے کو کیا کیا سمجھنے لگتے ہیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عقل مبارک کو دیکھو کہ نماز کے بعد استغفار فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھ سے نماز کا حق ادا نہ ہوا، آپ معاف فرما دیجیے۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھا رہے ہیں کہ سید الانبیاء ہوکر فرما رہے ہیں کہ مجھ سے نماز کا حق ادا نہیں ہوا تو تم سے کیا ادا ہوگا، لہٰذا عبادت کرکے ناز نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو کہ ہماری ناقص نماز کو قبول فرما لیجیے۔ اپنے کسی عمل پر ناز نہ کرو، ان کی نظر سے نظر ملائے رہو کہ آپ اگر ہمیں اپنی نگاہوں میں چڑھا لیں تو ہم سب کچھ ہیں، مومن بھی ہیں، ولی بھی ہیں، سب کچھ ہیں اور آپ اگر نگاہ سے اتار دیں تو ہم چمار اور کافر سے بھی بدتر ہیں۔ پھر نہ ہماری نماز نماز ہے، نہ روزہ روزہ ہے، نہ آنسو آنسو ہے، سب بے کار ہو گیا، قبولیت کا فیوز اُڑگیا، نظرِ عنایت کی روشنی آرہی تھی، جس سے توفیق ہو رہی تھی ورنہ ہمارے عمل میں کیا رکھا تھا؟ جیسے ایک پٹھان کا قصہ ہے۔ ایک آدمی چوڑیاں لیے بیٹھا تھا، خان صاحب کا ------------------------------