خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی خلوت کے وارث نہیں ہو توجلوت کے بھی وارث نہیں ہو۔ جلوتِ نبوت کی جان خلوتِ نبوت ہے۔ جیسا کہ ابھی عرض کیا کہ نبوت کی وراثت کے دو جز ہیں ایک وراثت جلوت کی ہے ایک وراثت خلوت کی ہے۔ حق تعالیٰ نے ا ن دونوں وراثتوں کی حفاظت کے لیے اُمّت میں الگ الگ رجال پیدا فرمائے۔ جس پر جلوت کی وراثت کو غالب کر دیا گیا اس سے فقہ و حدیث کا کام لیا گیا اور جس پر خلوت کی وراثت کو غالب کر دیا گیا اس سے درد محبت کی آہِ سوختہ جانی کا کام لیا گیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لوگ خلوت کی وراثت کے حامل تھے وہ جلوت کی وراثت کے حامل نہ تھے یا اس کے برعکس۔ نعوذباﷲ یہ مطلب نہیں ہے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ علما ئے ربانیین و صوفیا وغیرہ دونوں وراثتوں کے بیک وقت حامل تھے لیکن جس سے جو کام لینا تھا اس پر اس رنگ کو غالب کر دیا گیا، کسی پر جلوت کی وراثت غالب کر دی گئی کسی پر خلوت کی، جس پر جو رنگ غالب تھا اس سے وہی کام لیا گیا۔۹؍ شوال المکرم ۱۳۹۰ھ مطابق ۹؍دسمبر ۱۹۷۰ء مجلس بوقت صبح ساڑھے گیارہ بجے،ناظم آباد اعمال اور میزانِ عدل کی تمثیل پولنگ اسٹیشن سے ارشاد فرمایا کہ جب تک پولنگ ہوتی رہتی ہے تو نہ جیت کا قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے نہ ہار کا۔ اگر کسی پولنگ اسٹیشن پر کسی امیدوار کے حق میں زیادہ ووٹ پڑرہے ہوں اور اس کو مبارکباد دی جائے کہ آپ کے حق میں بڑے ووٹ پڑے ہیں تو وہ مطمئن نہیں ہوتا بلکہ یہی کہتا ہے کہ بھائی ابھی کوئی اعتبار نہیں،ممکن ہے کسی دوسرے پولنگ اسٹیشن پر ووٹ اتنے کم پڑیں کہ حزبِ مخالف جیت جائے اور میں ہار جاؤں۔ ہاں جب پولنگ ختم ہو جائے گی اور میزان کے وقت میں سب سے بازی لے جاؤں گا وہ وقت خوشی کا وقت ہوگا۔ یہی حال ہمارے اعمال کا ہے۔ ہمارے کان آنکھیں زبان ناک ہاتھ پاؤں اور یہ قلب بھی پولنگ اسٹیشن ہیں جن میں نیکیوں اور برائیوں کے ووٹ پڑرہے ہیں۔ اگر آنکھیں اللہ کی یاد میں رورہی ہیں کسی نامحرم کو نہیں دیکھ رہی ہیں زبان اللہ کا