خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
۱۳؍ شوال المکرم ۱۳۹۴ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۷۴ء، صبح ساڑھے نو بجے عافیت میں دعا کا انعام ایک صاحب سے دورانِ گفتگو ارشاد فرمایا کہ عافیت مانگنی چاہیےاَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ وَدَوَامَ الْعَافِیَۃِ وَالشُّکْرَ عَلَی الْعَافِیَۃِ ؎ اور عافیت کا دوام بھی مانگنا چاہیے اور عافیت پر شکر بھی کرنا چاہیے، اور دوام العافیہ کے بعد شکر علی العافیہ فرماکر امّت کو یہ سکھادیا کہ جو شخص دوام عافیت چاہے اس کو چاہیے کہ عافیت پر شکر کیا کرے اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص چاہے کہ مصیبت میں اس کی دعا قبول ہو اس کو چاہیے کہ عافیت میں دعا کیا کرے۔۱۳؍ شوال المکرم ۱۳۹۴ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۷۴ء بعد ظہر ناظم آباد نمبر ۴، کراچی حضرتِ والا کا اِستغناء ہندوستان سے ایک مل مالک آئے ہوئے تھے۔ فرمایا کہ کسی دنیا دار کے یہاں اگر یہ شخص آجاتا تو اس کے آگے پیچھے پھرتے۔ چناں چہ آج فلاں جگہ جہاں یہ مہمان ہوں گے بہت انتظام کیا جارہا ہے اگرچہ میں بھی کرسکتا ہوں لیکن سکنے کی بھی سکت نہیں ہے۔۱۳؍ شوال المکرم ۱۳۹۴ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۷۴ء ،بعد نمازِ عشاء کمالِ انسانیتِ حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کی دلیل ارشاد فرمایا کہ اَللّٰہُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَّ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ؎ اس میں کاملِ انسانیت صلی اﷲ علیہ وسلم نے معصیت سے کامل بُعد مانگا ہے۔ جو شخص اعمالِ منافئ انسانیت سے کاملِ بُعد مانگتا ہو اس سے اس کے کمالِ انسانیت کا پتا چلتا ہے۔ ------------------------------