خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
دنیا ہے،حالاں کہ قَالَ اللہُ قَالَ الرَّسُوْلُ کررہا تھا۔ کسی امیر کو دیکھ کر زیادہ خوش ہونا بھی حبّ دنیا ہے کہ اب نذرانے آئیں گے، یہ شرک ہے۔ غلام کی نظر صرف آقا پر ہونی چاہیے، غلام کے لیے اس کا آقا کافی ہوتا ہے: اَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ؎ کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے؟یہاں استفہام اقراری ہے کہ اللہ ہی کافی ہے۔ توحید کے لیے ایک آیت کافی ہے۔ نفس کی چالوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ امیروں کو دیکھ کر نفس کہتا ہے کہ کیا بات ہے؟ لوگوں سے اچھی طرح پیش آنا چاہیے۔ اسی طرح شیطان کینہ، عجب، تکبر کو نئے نئے ڈھنگ سے طاعت کی صورت میں دل میں ڈالتا ہے، پائخانوں پر جو چاندی کا ورق لگا کر شیطان پیش کرتا ہے وحی الٰہی اس کو بے نقاب کرتی ہے اور اللہ والا اس ورق کو ہٹا کر سُنگھا بھی دیتا ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ تم کسی طرح وحی الٰہی سے ٹکراجاؤ۔ کوئی حسین عورت یا امرد سامنے آگیا تو دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالے گا کہ یہ دیکھ لے اور اللہ کا حکم ہے: قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ ؎ اے نبی( صلی اللہ علیہ وسلم )!مومنین سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں۔ دانےکو دیکھنا جال کو نظر سے اوجھل کر دے گا، اس لیے دانہ کو دیکھنا شریعت نے حرام کردیا۔قلب کی نگاہ کو اللہ کی نگاہ سے ملائے رکھنا کہ وہ کسی بات سے ناراض تو نہیں ہورہےہیں،یہ اخلاص ہے۔ جسے ان کی رضا منظور ہوتی ہے لاکھ تقاضا ہو وہ غیر کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔ دل کو دنیا سے فارغ رکھو۔یہاں کا آرام کہ یہ مکان ہے،یہ کار ہے، یہ پنکھا ہے، یہ دل میں نہ آئے۔ یہ پنکھا جو یہاں چل رہا ہے اس کی دو حیثیت ہیں، ایک تو یہ کہ اس کو دیکھ کر شکر کرے کہ اے اللہ! آپ نے بے ہنر کو اپنے فضل سے ایسی ایسی نعمتیں ------------------------------