خزائن معرفت و محبت |
§ہم نوٹ : |
|
باز آمد آب من در جوئے من باز آمد شاہ من در کوئے من ان آنسوؤں کی برکت سے میری نہر میں پھر پانی آگیا اور پھر میرا شاہ میری گلی میں آگیا۔کرم بالائے کرم ارشاد فرمایا کہ اگر حق تعالیٰ جنّتبھی نہ دیتے اور جنّت کی حوریں بھی نہ دیتے تو بھی ہماری غلا می کا مقتضا یہی تھا کہ ہم ان کی غلامی کرتے اور کہتے کہ اے اﷲ!ہم تو آپ کے غلام ہیں ،آپ کی غلامی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ۔تو اگرچہ یہ نعمتِ عبدیت ہی کیا کم تھی لیکن ان کا کرم پر کرم ہے کہ جنّت اور حوروں کا انعام بھی عطا فرما دیتے ہیں۔مربّی سے اشد محبت کا انعام ارشاد فرمایا کہ جس کو جتنا کسی اﷲ والے سے تعلق ہوگا اسی قدر اس کو اﷲ کی محبت ملے گی ۔ جس شخص کے دل میں جتنی محبت اپنے مربّی کی ہوتی ہے اتنی ہی اﷲ کی محبت عطا ہوتی ہے۔حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ کے دل میں سب سے زیادہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت تھی اس لیے آپ تمام صحابہ پر فضیلت لے گئے اور آپ سے بڑا کوئی دوسرا امتی اﷲ کا عاشق نہیں ہوا۔ اور اس کے دل میں مربّی کے تمام اخلاق حسنہ و عادات منتقل ہو جاتے ہیں۔ چناں چہ حضرت صدیقِ اکبر کے بارے میں فرمایا: اَرْحَمُ اُمَّتِیْ بِاُمَّتِیْ اَ بُوْبَکْرٍ؎ اے اُمّت کے لوگو! سن لو کہ میں رحمۃ للعالمین ہوں اور میرا صدیق ارحم اُمّتی ہے، اُمّت پر سب سے زیادہ رحیم ہے۔ اور جو اپنے مربیّ پر فدا ہوتا ہے تو اس کی رائے اور مذاق میں بھی اتحاد ہو جاتا ہے ۔ چناں چہ صلح حدیبیہ میں حضرت عمر کو صلح پر ہیجان ہوا اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا اَلَسْنَاعَلَی الْحَقِّ؟اور بعد میں حضرت صدیق سے پوچھا تو حضرت صدیقِ اکبر نے بھی سوالات کے بعینہٖ وہی جوابات دیے جو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی ------------------------------