خزائن معرفت و محبت |
§ہم نوٹ : |
|
محبت نہیں ہوسکتی۔ معرفت سے محبت پیدا ہوتی ہے اور محبت سے خلوت لازم آتی ہے۔ معلوم ہوا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی خاص معرفت عطا فرمائی جس سے محبت پیدا ہوئی اور محبت سے آپ نے خلوت کو اختیار فرمایا۔احقر کے لیے قابل وجد واقعہ حضرتِ والا نے معارفِ مثنوی اٹھا کر مولانا محمد احمد صاحب اور احقر اور شیروانی صاحب کے بارے میں اشعار پڑھنے شروع کیے۔ مولانا رومی نے جو اشعار مولانا حسام الدین کے لیے کہے ہیں حضرتِ والا نے اپنے کرم سے وہ اشعار اپنے اشعار سے پہلے احقر کے لیے نقل فرمائے اور جب اس شعر پر پہنچے ؎ چوں شناسد جانِ من جانِ ترا یاد دا رند اتحاد و ماجرا اور فرمایا کہ ہمارا تمہارا تذکرہ کرگئے ہیں مولانا رومی چھ سو برس پہلے۔ تو احقر پر شدید گریہ طاری ہوگیا اور احقر حضرتِ والا کے پاؤں پر گر کر رونے لگا۔حضرتِ والا نے شفقت سے احقر کے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا صبر کرو۔ پھر جب حضرتِ والا نے جو خاص اشعار احقر کے لیے خود فرمائے ہیں اس پر پہنچے ؎ جانِ عشرت جان من است جان او ہر لحظہ مستانِ من است تو احقر پر اور زیادہ شدید گریہ شروع ہوگیا اور احقر حضرتِ والا کے پاؤں پر لوٹنے لگااور چومنے لگا اور زاروقطار رورہا تھا حضرتِ والا بھی روتے جاتے تھے اور اشعار پڑھتے جاتے تھے اور اس شعر کو ؎ سینۂ تو پر ز اسرار و رموز راز عشق و عاشقی راصد کنوز کو کئی مرتبہ پڑھا حضرتِ والا کے اس گمان کی حق تعالیٰ لاج رکھ کر اس ناکارہ سیہ کار کو اپنے فضل خاص سے مشرف فرمادیں۔