خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
۲۷؍رجب المرجب ۱۴۱۸ھ مطابق ۲۸؍نومبر ۱۹۹۷ء ،بروز جمعہ ۲؍ بجے دوپہر بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ، گلشنِ اقبال، کراچی آخرت کی یاد دلانے والا ایک مضمون ارشاد فرمایا کہ آج کل آخرت کییاد دلانے کے لیے ایک عنوان اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے کہ دنیا سے مت چپکو اور اپنے گھر سے بھی مت چپکو، کیوں کہ اس گھر سے ایک دن آپ کا خروج نہیں ہوگا اِخراج ہوگا۔ خروج تو جب ہو جب اپنی مرضی سے نکلو، جب روح کا خروج ہوگا تو گھر والے ہی تم کو گھر سے نکالیں گے، اس کا نام اِخراج ہے۔خروج اور ہے اخراج اور ہے۔ خروج کے معنیٰ نکلنا اور اخراج کے معنیٰ نکالنا۔ بیوی بچے ہی کہیں گے کہ بابا کوجلدی قبرستان لے جاؤ۔ لہٰذا دل کسی سے مت لگاؤ۔ حکیم الامت فرماتے ہیں کہ ہر اعضا کی غذا اﷲ نے الگ رکھی ہے۔ کان کی غذا اچھی آواز ہے، آنکھ کی غذا اچھے نظارے ہیں، زبان کی غذا ذائقے دار کھانے ہیں، ناک کی غذا خوشبو ہے اور دل کی غذا محبت ہے۔ غذا ناقص ہوگی تو صحت خراب ہوجائے گی، اسی طرح اگر ناقص محبوب سے دل لگاؤگے تو دل کی صحت خراب ہوجائے گی، دل بے چین رہے گا، اور سارے عالم کے محبوب ناقص ہیں کیوں کہ ان سب کو موت آنی ہے، بیماری آنی ہے اور جب بیماری آتی ہے تو حُسن کا جغرافیہ خراب ہوجاتا ہے تو یہ سب ناقص محبوب ہیں، بس حلال کی بیوی سے گزار ا کرلو۔ جائز کاروبار، مکان، ماں باپ، بیوی بچے ان سب سے تو اﷲ کے لیے محبت کرو لیکن اﷲ کی محبت کو سب پر غالب رکھو۔ دنیا سے دل کو کاٹنے کا حکم نہیں ہے، بس دنیا کی محبت پر اﷲ تعالیٰ کی محبت کو غالب رکھنے کا حکم ہے جیسے کشتی کے لیے پانی ضروری ہے مگر پانی نیچے رہے اور کشتی پانی کے اوپر رہے، اگر پانی کشتی میں داخل ہوجائے تو کشتی ڈوب جائے گی۔ اسی طرح دنیا تو رکھو، مکان بھی ضروری ہے، کپڑا بھی ضروری ہے، کھانا بھی ضروری ہے مگر ان سب کو دل کے باہر رکھو۔ کاروبار بھی دل کے باہر اور کار بھی دل کے باہر، دل میں بس یار ہو یعنی اﷲ دل میں ہو مگر اس کے لیے مشق ہے، زبانی جمع خرچ کافی نہیں ہے۔ اہل ا ﷲ کی