خزائن معرفت و محبت |
§ہم نوٹ : |
|
لوگوں کو پہچاننا مشکل ہے کیوں کہ ان کے افعال و اقوال بالکل عام لوگوں جیسے ہوجاتے ہیں لیکن ان کے دل کا جو حال ہوتا ہے اس سے مخلوق باخبر نہیں ہوتی اس لیے انہیں نہیں پہچانتی۔ اور بعض لوگ نوافل اور تلاوت اور ذکر اور مراقبہ کے وقت گوبا خدا ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی فارغ ہوئے اور لوگوں میںیا اپنے کاروبار میں مشغول ہوئے اس وقت وہ خدا کو ایسے بھول جاتے ہیں کہ انہیں اپنے کاموں میں خدا یاد ہی نہیں ہوتا۔ پس کاملین پہلے والے لوگ ہیں اور دراصل اصلاح اُمّت اور دعوت الیٰ اﷲ کا کام بھی ایسے ہی لوگوں سے لیا جاتا ہے۔ جو شخص خود تو ولی ہو صالح ہو لیکن دنیاکے لوگوں سے باتیں ہی نہ کرے ہر وقت مراقبہ میں بیٹھا ہے اﷲ کی طرف لوگوں کو نہیں بلاتا تو یہ خود چاہے ولی ہو لیکن ولی گر نہیں ہوسکتا اور دوسرا شخص جو تنہائی میں بھی اﷲ کو یاد کرتا ہے اپنے نوافل و ذکر و تلاوت کے بعد جب لوگوں میں بیٹھتا ہے تو ان کے دلوں میں اﷲ کی محبت پیدا کرتا ہے اور ا ﷲ کی طرف اُمّت کو بلاتا ہے تو دراصل کامل یہ ہے۔ اس کی صحبت سے دوسرے بندے بھی اﷲ والے بن جائیں گے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک مرغی آنکھیں بند کیے بیٹھی ہو اور اپنا چارہ کھاکر خوب تندرست بھی ہو اور دوسری مرغی چالیس انڈے لیے بیٹھی ہو تو افضل دوسری والی مرغی ہے کہ اس کے فیض سے چالیس مرغیاں بنیں گی اور پہلی مرغی سے کوئی دوسری مرغی پیدا نہ ہوسکے گی۔۳۰؍ ذو قعدہ ۱۳۹۴ھ مطابق ۱۵؍ دسمبر ۱۹۷۴ء اشکِ ندامت کی کرامت ارشاد فرمایا کہ آج بعد فجر یہ شعر ہوا ؎ ہوگئی عرش زمینِ سجدہ کس کی آنکھوں سے لہو برسا ہے جب سے یہ شعر ہوا ہے مجھے اس میں اتنا مزہ آرہا ہے کہ ایک حال طاری ہے۔ کس کی آنکھوں سے لہو برسا ہے اس سوال میں بہت لطف ہے یعنی زمین پر کون ایسا اﷲ کا عاشق رویا ہے کہ یہ زمین عرش اعظم بن گئییعنی زمین پر ہی اﷲ تعالیٰ کا قرب خاص عطا ہو گیا۔مولانا رومی نے تو صاف ظاہر کر دیا تھا کہ ؎