خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
خراب ہوگیا تو مستقبل بھی تباہ ہوگا۔اور اگر ماضی کی خرابی کی تلافی کرلی اور عمر رفتہ بر جفا پر ندامت و توبہ کر کے حق تعالیٰ کو راضی کرلیا تو اصلاح ماضی سے حال روشن ہوتا ہے اور اصلاحِ حال سے مستقبل روشن ہوتا ہے۔تعلق مع اﷲ کی علامت ارشاد فرمایا کہ جو بچہ ماں کی گود میں رہتا ہے اس کو اگر ماں کی گود سے چھینا جاتا ہے تو وہ رونے لگتا ہے اور بے چین ہوجاتا ہے، اور جس بچے نے ماں کی گود ہی نہیں دیکھی وہ ہر ایک کی گود میں چلاجاتا ہے، ہر گود اسے اپنی آغوش میں لے سکتی ہے۔ بس یہی حال ان لوگوں کا ہے جن کی روحوں کو تعلق مع اﷲ حاصل ہے ان کو جب شیطان یا نفس اﷲ کی رضا کے دائرے سے کھینچنا چاہتے ہیں تو ان پر گریہ طاری ہوجاتا ہے اور وہ مثل اس چھوٹے بچے کے بے چین ہوجاتے ہیں جس کو ماں کی آغوش سے چھینا جارہا ہو، اور اگر کوئی شخص لڈو دکھا کر بچے کو ماں کی گود سے لے بھی لے لیکن جیسے ہی لڈو ختم ہوگا وہ پھر ماں کی آغوش کے لیے رونے لگتا ہے اسی طرح اگر نفس و شیطان گناہ کرا بھی دیتے ہیں لیکن گناہ کے بعد وہ پھر اﷲ کے لیے بے چین ہوجاتا ہے اور جب تک توبہ کرکے رحمت الٰہیہ کی آغوش میں نہیں آتا اسے چین نہیں آتا۔۵؍شوال المکرم ۱۳۹۴ھ مطابق ۲۲؍اکتوبر ۱۹۷۴ء، بعد ظہر ماضی،حال اورمستقبل روشن کرنے کیلئے ذکر کماً اور کیفاً کامل ہونا چاہیے سیف الاسلام، مصباح الاسلام، نعیم اختر، خالد نعمانی، عبدالرحمٰن اور صبار دانش حیدرآباد سے آئے تھے۔ ان کے سامنے حضرتِ والا نے ارشاد فرمایا کہ انسان کی زندگی کے تین زمانے ہیں، ماضی، حال اور مستقبل۔ جس کا ماضی جتنا روشن ہوگا اتنا ہی اس کا حال روشن ہوگا، اور جس کا حال روشن ہوگا اس کا مستقبل روشن ہوگا۔ اسی طرح جس کا ماضی جتنا تاریک ہوگا اتنا ہی اس کا حال تاریک ہوگا، اور جس کا حال جتنا تاریک ہوگا اتنا ہی اس کا مستقبل تاریک ہوگا۔ معلوم ہوا کہ ماضی کے روشن ہونے سے حال روشن ہوتا ہے اور حال کے روشن ہونے سے مستقبل روشن ہوتا ہے، اور اس کے برعکس ماضی کے