خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
استقبال فرمایا اور خوب اکرام فرمایا، یہ کیا معاملہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ مدارات کے لیے پیدا کیا گیا ہوں اور مدارات سکھانے کے لیے پیدا کیا گیا ہوں کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤں: بُعِثْتُ بِمُدَارَاۃِ النَّاسِ؎ میں مبعوث کیا گیا ہوں اچھے اخلاق سے پیش آنے کے لیے۔ اب اس میں کیا فائدہ ہے کہ دل تو نہیں چاہتا مگر زبان سے کہتا ہے کہ آئیے آئیے بیٹھیے! اس میں دو فائدے ہیں: ۱) ایک یہ کہ آپ اس کے شر سے بچے رہیں گے، آپ کے دُشمن نہیں بڑھیں گے، وہ آپ کو ستائے گا نہیں۔ وہ سمجھ جائے گا کہ آپ کو اس سے بغض نہیں ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب کسی بستی سے واپس ہوتے تھے تو وہاں کے کافر روتے تھے کہ آہ! یہ برکت والے لوگ ہمیں چھوڑ کر جارہے ہیں۔ لہٰذا اس طرح رہو کہ کافر بھی آپ کی جدائی سے روئیں۔ ۲)……دوسرا فائدہ یہ کہ وہ اسلام سے اور ہدایت سے قریب ہوجائے گا، جب آپ دین کی کوئی بات بتائیں گے تو سن لے گا، لیکن اگر آپ نے اس کو کہا کہ نالائق، اُلّو کہیں کا، بدتمیز، تو خاندان کا سب سے بُرا آدمی ہے تو کبھی ہدایت قبول کرے گا؟ بعض لوگ داڑھی منڈانے والے کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ کیا کہوں ساری زندگی کے لیے اس کو داڑھی سے محروم کردیتے ہیں۔ ایسے عالم کی زندگی بھی سنّت کے خلاف ہے۔حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاق ایک ہندو پنڈت کا لڑکا چھت سے گرگیا۔ میرے شیخ حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ ہسپتال میں اس کو دیکھنے گئے اور فرمایا کہ کافر کی عیادت بھی سنّت ہے کیوں کہ اس سے وہ اسلام سے قریب ہوجائیں گے کہ مولوی صاحب کو دیکھو ہم جیسے ------------------------------