خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
گناہوں کی سیاہی سے اس کا دل بالکل بے نور ہو گیا ہے اور یہ سخت خطرے میں ہے۔ قَدۡ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجۡہِکَ فِی السَّمَآءِجملہ فعلیہ سے نازل ہونے کا راز ارشاد فرمایا کہ جملہ اسمیہ میں استقلال و ثبوت و دوام ہوتا ہے جیسے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا؎ اے نبی !آپ دواماً ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں اور کہیں جملہ فعلیہ استعمال فرمایا: قَدۡ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجۡہِکَ فِی السَّمَآءِ ؎ اے نبی !ہم آپ کے چہرۂ مبارک کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں تو یہاں جملہ فعلیہ کیوں بیان کیا؟ جواب یہ ہے کہ چوں کہ آپ کا تَقَلُّبَ وَجۡہِکَ عارضی تھا آپ کو دعا تحویل قبلہ کی قبول کرانی تھی اس لیے آپ بار بار آسمان کی طرف دیکھتے تھے کہ کوئی حکم آرہا ہے یا نہیں؟پس چوں کہ تَقَلُّبَ میں دوام نہیں تھا اس لیے قرآنِ پاک کی بلاغت ہے کہ موقع کے اعتبار سے جملوں کا استعمال ہو ا ہے پس یہاں جملہ فعلیہ سے فرمایا جس میں حدوث و فنا لازم ہے ۔گناہ سے دونوں جہاں کا نقصان ہے ارشاد فرمایا کہ ہر گناہ سے دونوں جہاں کا نقصان ہوتا ہے خواہ جاہی گناہ ہو یا باہی یا مالی کسی قسم کا گناہ ہو ۔میں بفضلہٖ تعالیٰ ثابت کرسکتا ہوں کہ آخرت کا تو نقصان ہے ہی، دنیا کا بھی نقصان ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب حق تعالیٰ شانہٗ کو ہماری حیاتِ عارضی کی اصلاح و فلاح اور بہبود کی اس قدر فکر ہے تو آخرت کی حیاتِ دائمی کی اصلاح و فلاح کیوں نہ مطلوب ہوگی۔ اب اگر کوئی کہے کہ صاحب سود میں دنیا کا کیا نقصان ہے سود خورتو ------------------------------