خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
اورسورج کے درمیان جب زمین کی حیلولت آجاتی ہے تو سورج کی روشنی چاند پر نہیں پہنچتی،قلب کی مثال چاند کی سی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سورج اور قلب کے چاند کے درمیان نفس کی زمین حائل ہے۔نفس کو مٹاؤاللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاؤ گے دَعْ نَفْسَکَ وَتَعَال نفس کو چھوڑ دو اور میرے پاس آجاؤ۔ خلاصہ یہ کہ دل کی رفتار پر نظر رکھو کہ دل کہاں جارہاہے۔ جسم کے قدم پر نظر رکھنا تو عام آدمیوں کا بھی کام ہے، دل کے قدم پر نظر رکھنا اہلِ دل کا کام ہے۔ ظاہری اعمال تو عام مومنین بھی کرتے ہیں لیکن دل کی نگرانی اولیاء اللہ ہی کرتے ہیں۔ پہلے دل خراب ہوتا ہے پھر ہاتھ پاؤں خراب ہوتے ہیں، پہلے حسد پیدا ہوتا ہے پھر غیبت کو دل چاہتا ہے۔ اگر پہلے ہی سوراخ بند کردیتے کہ میرا بھائی ہے میں اس سے کیوں حسد کروں؟ کیا حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں سے زیادہ مجھے تکلیف پہنچائی ہے؟ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا تھا؟ تو ہر وقت دل کو سامنے رکھو، جھانکتے رہو کہ اس میں کیا کارخانہ چل رہا ہے، یہ ہے دل کی نگرانی، یہ ہے اصل سلوک۔ اللہ تعالیٰ نے دل کی ساخت ایسی بنائی ہے کہ یہ خالی نہیں رہ سکتا یا تو اس میں اللہ کی محبت ہوگی یا دنیا کی محبت ہوگی، اس کو اعلیٰ چیز سے بھرو۔ اگر بریانی نہیں کھائے گا تو پھر سڑی ہوئی باسی روٹی کھائے گا۔ جب دل ذکر اور اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے تو گناہ کرنے لگتا ہے۔ جس کو دل کی نگرانی کا ہنر آجائے سمجھ لو کہ اس کو سب کچھ آگیا، جو قرب اور عبادتوں سے سالوں میں حاصل ہوگاوہ اس سے مہینوں میں مل جائے گا۔ یہ روح کے لیے آلۂ اصطرلاب ہے۔ ہر وقت یہ خیال رہے کہ اس وقت دل میں کیا کارخانہ چل رہا ہے، کہیں تکبر تو نہیں آرہا، کہیں جاہ تو پیدا نہیں ہورہی، کہیں ریا تو نہیں گھس رہی، کہیں دنیا کی محبت اتنی تو نہیں کہ مرتے وقت دل میں خیال آئے کہ ابھی فلاں سے ملنا ہے، ابھی فلاں کام کرنا ہے۔ جس کام میں اللہ کی محبت شامل نہ ہو وہی دنیا ہے۔ فاسق سے بھی اگر اللہ کے لیے محبت سے پیش آتا ہے کہ یہ اللہ والا بن جائے تو یہ بھی عبادت ہے، دنیا کے لیے فاسق سے محبت رکھنا ناجائز ہے۔ وعظ کہہ رہا ہے لیکن دل میں جاہ آگئی کہ لوگوں کے دلوں میں عزت بڑھے گی، یہ بھی