خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
گی۔ اگر شوہر تو ناراض ہے اور محلہ بھر تعریف کرتا ہے تو کیا محلہ والے اس عورت کو روٹی کپڑا دے دیں گے؟ اگر کوئی روٹی کپڑا دے گا بھی تو شوہر اس کے ڈنڈا مارے گا کہ تو کون ہوتاہے، میری بیوی ہے۔ ایسے ہی جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوں، لوگ اگر اس کی مدد کرنےلگیں تو ان کے بھی ڈنڈا مار دیتے ہیں کہ میرا بندہ ہے جس طرح چاہوں گا رکھوں گا۔ یہ ڈنڈا کیا ہے؟ لوگوں کا دل اس سے پھیر دیتے ہیں۔ ان کی نظر بدل جاتی ہے تو سارا جہاں بدل جاتا ہے ؎ نگاہِ اقربا بدلی مزاج دوستاں بدلا نظر اک ان کی کیا بدلی کہ کُل سارا جہاں بدلا بس اپنے کو مت دیکھو، ان کی نظر سے نظر ملائے رہو کہ کس بات سے وہ خوش ہوتے ہیں اور کس بات سے ناراض ہوتے ہیں، عاشق اپنے کو نہیں دیکھتا، محبوب کو دیکھتا ہے۔ اگر اپنے کو دیکھو گے تو ان کی نظر بدل جائے گی۔ اس لیے جب اپنی بڑائی دل میں آئے یا دل تمہاری تعریف کرے یا مخلوق تعریف کرے فوراً مندرجہ بالا مراقبہ کرلو کہ نہ جانے ان کی نظر میں ہم کیسے ہیں؟ عجب و تکبر کا یہ بہترین علاج ہے۔ مخلوق کی تعریف سے کبھی اپنے نفس کو خوش مت ہونے دو۔ ہر مرض کا علاج خاتمہ کا خوف ہے۔ خاتمہ کے خوف سے تمام امراض کا علاج بھی ہو جائے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت پر عمل بھی ہو جائے گا۔ آپ خاتمہ کے خوف سے غمگین رہا کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے : کَانَ مُتَوَاصِلَ الْاَحْزَانِ؎ میرے شیخ حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ عجب و تکبر احمقوں کو ہوتا ہے، یہ بیماری حماقت کی ہے۔ چمار کو تھانہ دار بنادو ابل پڑےگا کیوں کہ کم ظرف ہوتا ہے۔ عالی ظرف بنو اور اللہ سے دعا کیا کرو کہ اے اللہ! میرے ظرف میں عمق پیدا فرمادیجیے، میرے دل سے سطحیت کو دور کر دیجیے۔ قلب اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نفس کو حائل نہ ہونے دو، اگر نفس حائل ہو گیا تو اللہ سے دوری ہو جائے گی۔ جیسے چاند ------------------------------