خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
ہوئیں کہ بعض وقت خود کشی کا وسوسہ آگیا۔ ارشاد فرمایا کہ دوسری شادی سے بیوی بچوں کے جدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور صرف اندیشہ ہی نہیں اس زمانے میں یہ جدائی یقینی ہے، زندگی تلخ ہوجائے گی۔ ہمارے سامنے بہت سے واقعات ہیں کہ جن بیویوں نے خوشی سے اجازت بھی دی شادی کے بعد اپنی اولاد کے ساتھ شوہر کے خلاف محاذ قائم کردیا۔ اگر دل میں کوئی عورت سمائی ہوئی نہیں ہے، ہونا نہ ہونا برابر ہے تو دوسری بیوی کی چاہت کا اتنا سخت تقاضا کیوں؟ جبکہ قضائے شہوت کا محل (بیوی) موجود ہے، نفس سے ہوشیار رہیں، اس کے کید بہت باریک ہوتے ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ دوبیویاں رکھنا اور ان میں برابری کرنا خصوصاً اس دورِ نفس پرستی اور ہوس انگیزی میں سخت دشوار بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ اس لیے اﷲتعالیٰ نے بشرطِ مساوات اجازت دی ہے،حکم نہیں دیا کہ کئی کئی شادیاں کرو۔ پس اگر مساوات نہ کرسکے جس کا قوی امکان ہے تو اﷲتعالیٰ کا غضب مول لینا ہے۔ اس لیے دُعاکرتا ہوں کہ اﷲتعالیٰ ان کو اس اقدام سے باز رکھے کہ ان کے لیے بڑی آزمایش اور بڑا امتحان ہوگا جس میں مواخذہ کا اندیشہ زیادہ ہے۔ ارشاد فرمایا کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ بہت حسین تھے، مگر ان کی شادی ایسی عورت سے ہوئی جس پر حُسن کا اطلاق ممکن نہ تھا۔ پہلے زمانے میں بچے اتنے شریف ہوتے تھے کہ ماں باپ جہاں رشتہ لگادیں وہ ماں باپ سے لڑتے نہیں تھے کہ میں کیسا ہوں اور آپ نے انتخاب کیسا کیا؟ خون کے رشتوں کی وجہ سے ترجیح دے دی کہ خون کا رشتہ ہے، اس کا حق ادا ہوجائے گا، صلہ رحمی ہوجائے گی، ایک لڑکی کا گھر بس جائے گا۔ ایک دن ایک شاگرد سے کھانا منگوایا، تیز ہوا سے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی بیوی کا نقاب ذرا سی دیر کو ہٹ گیا تو دیکھا کہ بیوی امام صاحب کے بالکل برعکس ہے۔ کھانا تو لے آیا، مگر الگ بیٹھ کے رونے لگا۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کہ کیوں روتا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ کی قسمت پر رو رہا ہوں۔ آپ جس قدر حسین ہیں آپ کی بیوی اتنی ہی غیرحسین