خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے بیٹے! میں اس وقت فقہ پر چھ کتابیں لکھ رہا ہوں زیادات، مبسوط، جامع صغیر، جامع کبیر، سیرصغیر،سیر کبیر اور تم لوگوں کو پڑھا بھی رہا ہوں۔ اگر بیوی حسین ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس بیٹھا ہوتا اس کے حُسن کا مشاہدہ، معاینہ اور ملاحظہ کرتا۔ تم کہتے کہ استاد کنزالدقائق کا گھنٹہ ہوگیا، میں کہتا کہ میں حُسن الدقائق میں مشغول ہوں ۔ پھر جوش میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنے دردِ دل کے لیے منتخب فرماتے ہیں اس کو فانی کھلونوں میں ضایع نہیں کرتے۔ بیوی کے لیے ناک بھوں مت چڑھاؤ کہ ایسی ناک چپٹی ہے، اس کا منہ کالا ہے، مجھے حسین بیوی ملنی چاہیے۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کے پیٹ سے کوئی عالم، حافظ، ولی اللہ پیدا کردے جو قیامت کے دن تمہارے کام آئے، اس لیے ان کو حقیر مت سمجھو۔ صورت کو مت دیکھو۔ بعض وقت زمین کالی ہوتی ہے، مگر غلہ بہت بَڑھیا نکلتا ہے۔ بعض وقت کالی کلوٹی عورت سے ولی اللہ پیدا ہوتے ہیں اور گوری چٹیوں سے شیطان پیدا ہوتے ہیں، اس لیے بیویوں کو حقیر مت سمجھو، ان کے رنگ و روغن کو مت دیکھو۔ کئی مرتبہ لوگوں نے حضرتِ والا سے عرض کیا کہ اگر کسی کو دوزخ کا عذاب چکھنا ہو تو دوسری شادی کرلے۔ ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی بندیوں کے لیے سفارش نازل کیعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ؎ کہ ان کے ساتھ اچھے سلوک سے رہنا۔ یہ بتاؤ کہ اگر شیخ کہہ دے کہ میری بیٹی کا خیال رکھنا، تم میرے داماد بھی ہو اور میرے خلیفہ بھی ہو،اگر تم نے میری بیٹی کو ستایا تو خلافت چھین لوں گا۔تو بتائیے وہ خلیفہ شیخ کی بیٹی کو ستائے گا؟ وہ تو روزانہ ہاتھ جوڑتا رہے گا کہ اپنے ابّا سے کچھ مت بتانا، اگر کبھی خطا ہوبھی جائے تو ا س کو منا لے گا۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اگر تم نے دوسری شادی کی تو میری بیٹی فاطمہ کو غم ہوگا اور اگر فاطمہ کو غم ہوگا تو مجھ کو غم ہوگا لہٰذا میں حقِ ضابطہ سے نہیں کہتا حقِ رابطہ سے کہتا ہوں کہ تم دوسری شادی مت کرنا۔ معلوم ہوا ------------------------------