خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
میری دعا کو قبول نہیں کیا ۔ حضرت حکیم الامت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے ناراض ہو جاتے ہیں کیوں؟ کیوں ناراض ہوتے ہیں؟ گویا اس شخص نے اعتراض کیا کہ ہمارا کام اتنے دن میں بن جانا چاہیے تھا، آپ نے اتنے دن میں نہیں بنایا۔ یہ اللہ پر اعتراض ہے، ایسا شخص نادان ہے، عارف نہیں ہے، اسے پتا ہی نہیں کہ یہ مانگنا کیا کم نعمت ہے ؎ امید نہ بر آنا امید بر آنا ہے اک عرضِ مسلسل کا کیا خوب بہانہ ہے اگر دعا میں ہماری امید پوری نہیں ہورہی یا دیر سے پوری ہو رہی ہے تو تم کو تو دعا کی توفیق سے اللہ تعالیٰ سے گفتگو کا شرف مل رہا ہے۔ روزانہ کہہ رہے ہو اے اللہ! یا اللہ! یہ کیا معمولی نعمت ہے؟ ؎ امید نہ بر آنا امید بر آنا ہے اک عرضِ مسلسل کا کیا خوب بہانہ ہے دیکھیے! اپنے موقع پر اشعار کی فٹنگ، یہ میرا رب مجھے عطا کرتا ہے۔ اس لیے دعا کرتے رہیں۔ بندے کی کوئی حاجت، کوئی پریشانی ایسی نہیں جس کو اللہ تعالیٰ دفع کرنے پر قادر نہ ہوں۔دیر ہو تو گھبراؤ مت۔ لگے رہو اور اس صبر پر اجر الگ ملے گا۔ بچے کو تکلیف ہے تو اس کو بھی اجر ملے گا، باپ کو غم ہو رہا ہے اس کو بھی اجرملے گا۔ اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہو، ایک دن ایسا آئے گا کہ اچانک کام بن جائے گا۔ ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ ڈاکٹروں نے مجھے مایوس کر دیا ہے کہ تمہاری یہ بیماری اچھی نہیں ہو گی۔ میں نے کہا ڈاکٹروں نے مایوس کیا ہے نا! اللہ تعالیٰ نے تو مایوس نہیں کیا۔ کہا: پھر کیا کروں؟ میں نے کہا: روزانہ تین مرتبہ نماز حاجت پڑھ کر یہی دعا پڑھو، تین مرتبہ روزانہ پڑھو۔ چند مہینے پڑھا، اس کے بعد ایک دن آئے اور کہنے لگے کہ بغیر دوا کے میرا مرض اچھا ہو گیا، اس مرض کا پتا ہی نہیں چلا کہ کہاں گیا۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے رجوع کرو، ہماری ہر حاجت کا یہی علاج ہے۔ ایک دفعہ میرا پوتا اسماعیل بیمار ہوگیا۔ میں ان دنوں ڈھاکہ میں تھا۔ مولانا مظہر میاں نے مجھے فون کیا کہ آپریشن تجویز ہے، میں نے ہسپتال میں اس کے لیے کمرہ