خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
محدث عظیم ملّا علی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ کم سے کم تین آنسو تو گراؤ کیوں کہ حدیث میں جمع کا لفظ دُمُوْعٌ آیا ہے اور عربی کاجمع کم از کم تین ہوتاہے، اس لیے کم از کم آنسو کے تین قطرے تو گراؤ؎حدیث میں ہے کہ خواہ وہ آنسو مکھی کے سر کے برابر چھوٹے ہی ہوں تو بھی اﷲ تعالیٰ کا فضل ہوجائے گا۔ اور کبھی زمین پر آنسو گراؤ، سجدے میں رو لو ایک روایت میں یہ بھی ہے۔ غرض کوئی بہانۂ رحمت نہ چھوڑو۔ آنسو پر تین روایتیں ہیں: ایک تو یہ کہ مکھی کے سر کے برابر آنسو نکل آئے تو دوزخ کی آگ اس پر حرام ہو جاتی ہے۔ نمبردو جہاں جہاں آنسو لگتے ہیں وہاں آگ حرام ہو جاتی ہے تو آنسوؤں کو مل بھی لینا چاہیے، چہرے پر پھیلا لو، داڑھی میں خوب لگا لو تاکہ زیادہ سے زیادہ حصے پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے۔ اور پھر جب وہ جُز کو جنّت کے لیے اُٹھائیں گے تو کُل بھی لے لیں گے کیوں کہ کریم کی شان کے خلاف ہے کہ ہمارے جُز کو جنّت میں داخل کر دے باقی کو جہنم میں پھینک دے۔ نمبرتین یہ کہ ایک روایت میں ہے کہ کچھ آنسو زمین پر گر جائیں ، لہٰذا کبھی کبھی بغیر مصلّٰی کے زمین پر نماز پڑھ کے آنسو گرا لو۔ اور زمین کے حکم میں موزیک کا فرش بھی داخل ہے کیوں کہ جس پر تیمم جائز ہو وہ سب زمین کی جنس ہیں اورسیمنٹ کے پکے فرش پر اور موزیک کے فرش پر تیمم جائز ہے۔ لہٰذا قالینوں سے ہٹ کر کہیں ایسی جگہ رو لو۔ اور اگر اتنا آنسو نہ نکلے تو سجدے میں رو لوتاکہ ایک قطرہ بھی گر جائے۔ اور اگر رونا نہ آئے تو رونے والوں کی شکل بنالو۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بچپن میں نابینا ہو گئے تھے، آپ کی والدہ صاحبہ کثرت سے دعا کرتی تھیں۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دیکھا آپ نے فرمایا کہ قَدْ رَدَّ اللہُ بَصَرَ وَلَدِکِ بِکَثْرَۃِ دُعَائِکِ تیرے بچے کی بینائی کو اللہ نے واپس کر دیا تیری دعاؤں کی کثرت کی وجہ سے۔ تو معلوم ہوا کہ کثرتِ دعا سے کام بنتا ہے۔بس دو چار دن دعا کر کے چھوڑنا نہیں چاہیے، دعا میں لگے رہو۔ جو شخص کثرت سے دعا کر کے پھر مایوس ہو جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے کہ ارے! اتنے دن مانگتے ہوئے ہو گئے ابھی تک ------------------------------