خزائن معرفت و محبت |
ہم نوٹ : |
|
لے لیا ہے۔ میں نے کہا ایک ہفتے کے لیے مہلت دو، مجھے اللہ سے مانگنے کا موقع دو،ایک ہفتے کے بعد تمہیں اختیار ہے، تمہارا بچہ ہے جو چاہو کرو، لیکن ہمارا بھی تو کچھ ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے رو رو کے عرض کیا کہ یا اللہ! میرے بچے کو آپریشن کے بغیر اچھا کر دیجیے۔ آج چار پانچ سال ہو گئے آپریشن نہیں ہوا، بالکل مرض ہی غائب ہو گیا۔ اللہ سے مانگ کر کے تو دیکھو۔ اگر اپنے ربّا کے اوپر ہم ناز نہیں کریں گے تو کس پر ناز کریں گے اور کوئی ہے کیا؟کیا کوئی اور دروازہ بھی ہے جس پر ہم جائیں؟ ؎ نہ پوچھےسوا نیکو کاروں کے گر تو کہاں جائے بندہ گناہ گار تیرا کوئی بھی مرض ہو، چاہے جسمانی ناسور ہو یا روحانی ناسور ہو، پرانے سے پرانا پاپی اور مجرم ہو، مجرمانہ عادت رکھتا ہو اللہ سے رو رو کر مانگے، نہ ٹھیک ہو تو کہنا اختر کیا کہہ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ غیب سے اسباب پیدا کریں گے۔ جیسے کہ ماں دیکھتی ہے کہ میرا بچہ مٹی کھاتا ہے اور اس نے چھپ کر کے مٹی کھا لی اور ماں کو پتا چل گیا تو حلق میں انگلی ڈال کر مٹی نکال دے گی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ گناہوں کا لیا ہوا مزہ آنکھوں سے آنسو نکلوا کر اگلوا دیتے ہیں اوراگر مٹی بچے کے پیٹ میں پہنچ گئی تو ماں آپریشن بھی کراتی ہے۔اسی طرح جو گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ پھر اس کو کسی مصیبت میں مبتلا کردیں گے جس سے اس کے دل کے ذرّے ذرّے میں اضطراری کیفیت پیدا ہوجائے گی، یہ اضطرار غیبی آپریشن ہے۔ ایسے مسائل آجائیں گے جس سے گھبرا کر وہ توبہ کرے گا، اﷲ تعالیٰ کے سامنے روئے گا۔ نمبر تین: گھرمیں جہاں کہیں مٹی ہوتی ہے تو ماں اس کو جھاڑو سے صاف کر دیتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جس کو اپنا مقبول بناتے ہیں اس سے اسبابِ معصیت دور فرما دیتے ہیں۔ نمبر چار: اگر محلّے کا کوئی لڑکا مٹی چُھپا کر لائے اس کے بچے کو کھلانے کے لیے تو ماں اس لڑکے کو تھپڑ مارتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ان لوگوں کو ہلاک اور برباد کرتے ہیں جو ان کے خاص بندوں کے لیے گناہوں کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ اپنے اولیاء کی کس طرح حفاظت کرتے ہیں اس کے یہ چار طریقے میں نے عرض کر دیے اور یہ حدیث اَللّٰھُمَّ وَاقِیَۃً کَوَاقِیَۃِ الْوَلِیْدِ؎ کی شرح ہے۔ ------------------------------